
خبر کدا ویب ڈیکس: جنوبی وزیرستان کے علاقے لوئر وانا کے مقام کرزئی پال میں دہشت گردوں کے مابین ہونے والے ایک شدید خونی تصادم کے نتیجے میں اہم عسکریت پسند سہیل مغل خیل ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ اس جھڑپ کے دوران شدید زخمی ہونے والا کالعدم گل بہادر گروپ کا کمانڈر نصیر وزیر بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا ہے۔ یہ روح فرسا واقعہ عسکریت پسندوں کے اندرونی حلقوں میں بڑھتی ہوئی پھوٹ اور شدید خلفشار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اندرونی رسہ کشی اور قیادت کا زوال:
- سہیل مغل خیل اور کمانڈر نصیر وزیر کی ہلاکتیں دہشت گرد تنظیموں کے اندرونی تنازعات کے تباہ کن اثرات کو واضح کرتی ہیں।
- یہ پُرتشدد جھڑپیں عسکریت پسند نیٹ ورکس کے اندر جاری اقتدار کی جنگ، طاقت کے حصول کی ہوس اور اندرونی گروہ بندیوں کو بے نقاب کرتی ہیں।
- کسی اہم گروپ کمانڈر کی ہلاکت سے ان دہشت گرد نیٹ ورکس کا مجموعی نظم و ضبط، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور تنظیمی ڈھانچہ شدید تعطل کا شکار ہو جاتا ہے।
تنظیمی کمزوری اور عدم استحکام:
- اس طرح کی باہمی چپقلش اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گرد گروہ اب بیرونی دباؤ کے ساتھ ساتھ آپسی مفادات اور طاقت کی جنگ میں خود ایک دوسرے کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں।
- اس نوعیت کے داخلی تصادم دہشت گرد نیٹ ورکس کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتے ہیں، جو ان کے اندرونی عدم استحکام اور باہمی اتحاد کے مکمل فقدان کو ظاہر کرتا ہے।



