
خبر کدا ویب ڈیکس: کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج (بی ایل اے) کا ایک اور خطرناک اور سرکردہ کمانڈر ڈاکٹر عبدالرشید عرف “نقاب” ایرانی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والے ایک تصادم میں جہنم واصل ہو گیا ہے۔ ایرانی علاقے سراوان میں پیش آنے والے اس واقعے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو کھل کر عیاں کر دیا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کو زندہ رکھنے اور پروان چڑھانے کے لیے بیرونی سرپرستی میں کس طرح کے پناہ گاہیں اور سہولت کاری کے نیٹ ورکس کام کر رہے ہیں۔
ایرانی سرزمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال: کمانڈر “نقاب” کی ایرانی علاقے سراوان میں ہلاکت نے اس امر کو واضح کر دیا ہے کہ بی ایل اے کے اہم ترین دہشت گرد کارندے طویل عرصے سے کس ڈھٹائی کے ساتھ پڑوسی ملک کی سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس طویل موجودگی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عسکریت پسند عناصر نے اپنے نیٹ ورکس کو برقرار رکھنے، رابطے بحال رکھنے اور پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لیے کس طرح سرحد پار ماحول کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔
قیادت پر کاری ضرب اور مجرمانہ نیٹ ورک: ہلاک ہونے والا دہشت گرد “نقاب” بی ایل اے کے سرکردہ کمانڈر ڈاکٹر نصیر کا قریبی ساتھی اور اہم کارندہ تھا، جو تنظیم کے سینئر عسکریت پسند نیٹ ورک کی ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا تھا۔ اس اہم کمانڈر کا خاتمہ بی ایل اے کی اندرونی قیادت کے ڈھانچے کے لیے ایک بہت بڑا اور ناقابلِ تلافی دھچکا ہے۔
بین الاقوامی عناصر کا گٹھ جوڑ اور علاقائی چیلنجز: اس واقعے سے یہ حقیقت بھی اجاگر ہوتی ہے کہ دہشت گردی کے یہ نیٹ ورکس بین الاقوامی نوعیت کے ہیں جو پاک-ایران سرحد کی کمزوریوں اور مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان تمام حقائق کے پس منظر میں دشمن عناصر، بشمول بھارت اور اس کی سرپرستی میں چلنے والے نیٹ ورکس، بی ایل اے کی معاونت کر رہے ہیں تاکہ بلوچستان کے اندر بدامنی، تخریب کاری اور عدم استحکام کو ہوا دی جا سکے۔
ریاستی مؤقف اور مؤثر حکمت عملی: پاکستان کی طرف سے ہمیشہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جب تک پڑوسی ملکوں کے اندر موجود دہشت گرد کمانڈروں، ان کے سہولت کاروں اور معاون نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جاتا، دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنا ممکن نہیں۔ کمانڈر “نقاب” کا انجام اس بات کا متقاضی ہے کہ دہشت گرد پناہ گاہوں کے خلاف مزید سخت اور موثر علاقائی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ کسی بھی ملک کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف تخریب کاری کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔



