
خبر کدا ویب ڈیکس کالعدم اور غیر ملکی سرپرستی میں پلنے والی دہشت گرد تنظیم فتنہ الخوارج (بی ایل اے) کی جانب سے ایک نئی پروپیگنڈا ویڈیو جاری کی گئی ہے، جس میں بلوچستان بھر میں 14 سے زائد سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملوں اور انہیں “فتح یا تباہ” کرنے کے جھوٹے دعوے کیے گئے ہیں۔ حقیقت میں، یہ ڈرامائی مہم اس شکست خوردہ ٹولے کی طرف سے اپنی صفوں میں ہونے والے بھاری جانی نقصان، ناکامیوں اور زمینی خفت کو چھپانے کی ایک انتہائی مایوس کن کوشش ہے۔
خالی عمارتوں کو تباہ کرنا علاقائی فتح نہیں ہے: کسی بھی ویران، متروکہ یا غیر آباد عمارت کو نشانہ بنانا اس بات کا ہرگز ثبوت نہیں کہ عسکریت پسندوں نے کسی سیکیورٹی پوسٹ پر قبضہ کر لیا ہے یا کوئی علاقائی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کا آمنے سامنے مقابلہ کرنے کی سکت کھو دینے کے بعد، فتنہ الخوارج بی ایل اے اب صرف جوڑ توڑ کر کے بنائی گئی جعلی ویڈیوز کا سہارا لے رہی ہے تاکہ اپنے بیرونی آقاؤں کو اپنی موجودگی کا جھوٹا یقین دلا کر فنڈز کا حصول جاری رکھ سکے۔
منتخب فوٹیجز اور حقائق کی پردہ پوشی: یہ گروہ مختلف تاریخوں اور مقامات پر ناکام ہونے والے اپنے حملوں کی پرانی اور کٹی پھٹی فوٹیجز کو یکجا کر کے ایک بڑے محاذ کا جھوٹا تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے برعکس، انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز مسلسل ان کے خفیہ ٹھکانوں اور نیٹ ورکس کو پورے بلوچستان میں مٹی میں ملا رہے ہیں۔
ریاستی سیکیورٹی فورسز کی فیصلہ کن کارروائیاں:
- جون اور جولائی کی کارروائیوں کا پس منظر: 25 تا 26 جون کو خاران اور مستونگ میں سیکیورٹی فورسز نے ایک خودکش بمبار سمیت 8 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔ 5 تا 8 جولائی کے دوران مختلف علاقوں میں کیے گئے جوابی اور کلیئرنس آپریشنز میں 54 دہشت گرد مارے گئے، جن میں خاران میں 6، دالبندین میں 8 اور بیلہ میں قافلے پر حملے کے دوران 14 دہشت گرد شامل تھے۔ مزید برآں، 29 اور 31 جولائی کو نوشکی میں خودکش بمبار سمیت 7 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
- اگست اور ستمبر میں پروپیگنڈا کا پول کھل گیا: 10 اگست کو پنجگور میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والے ایک کامیاب آپریشن میں 5 دہشت گرد مارے گئے۔ 31 اگست کو چاغی کے علاقے نوکنڈی/نوکچہ (N-40) پر دہشت گردوں کی طرف سے لگائے جانے والے غیر قانونی ناکے اور روڈ بلاک کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے 11 دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا اور بھاری مقدار میں اسلحہ و بارود برآمد کیا۔
زمینی حقائق بالکل عیاں ہیں: رواں سال اگست 2026ء کے دوران صوبہ بھر میں جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے نتیجے میں فتنہ الخوارج کے 70 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جن میں واشک، مستونگ، پنجگور، سوراب، مچھ اور خضدار کے علاقے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ستمبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران ہی بلوچستان میں 80 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا یہ ناسور اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔
ترقی اور رابطہ کاری پر حملے – بی ایل اے کی اصل دشمنی: این 40 (N-40)، این 25 (N-25)، سی پیک (CPEC) اور دیگر اہم قومی شاہراہوں پر واقع سیکیورٹی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا واحد مقصد عام شہریوں کی نقل و حرکت، تجارت، رابطہ کاری اور اقتصادی ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔ اس قسم کی بزدلانہ کارروائیوں سے بلوچستان کے غیور عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ یہ یہاں کے عوام کے دشمن ہیں۔
رَدُالفتنہ 3: عزمِ نو کے ساتھ دہشت گردی کا خاتمہ: “رَدُالفتنہ 3” کے تحت ریاست عسکریت پسندوں کے ان نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ان کے تمام بیرونی اہداف کو ناکام بنایا جائے گا، بلوچستان کے عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا، صوبے کے چپے چپے پر ریاست کی مکمل رِٹ برقرار رکھی جائے گی اور ان تمام فتنہ پرور عناصر کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔



