
خبرکداویب ڈیکس: بلوچستان یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جسے “جبری گمشدگی” کا شکار اور عام شہری قرار دے کر پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا، اس نثار احمد کو خود کالعدم دہشت گرد تنظیم بی ایل اے نے اپنے ہلاک ہونے والے کارندوں کی فہرست میں تسلیم کر لیا ہے۔ اس انکشاف نے لاپتہ افراد کے نام پر چلنے والی اس مہم کا پول کھول دیا ہے جس کے تحت دہشت گردوں کو معصوم ظاہر کر کے ریاست کے خلاف بیانیہ بنایا جاتا ہے۔
نوکچہ آپریشن اور بی ایل اے کا اعتراف: رواں سال 31 اگست کو چاغی کے علاقے نوکچہ (N-40 شاہراہ) پر سیکیورٹی فورسز کے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 11 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب دہشت گردوں نے کوئٹہ۔تفتان شاہراہ پر غیر قانونی ناکہ لگانے، مسافروں کو ہراساں کرنے اور بھتہ خوری کی کوشش کی تھی۔ اس آپریشن کے بعد کالعدم بی ایل اے نے اپنے ہلاک ہونے والے 10 ارکان کے نام اور تصاویر جاری کیں، جن میں نثار احمد کا نام بھی شامل تھا۔
پروپیگنڈا مہم کا پردہ فاش: جس شخص کو بی وائی سی اور دیگر نام نہاد انسانی حقوق کے حامیوں کی طرف سے “لاپتہ شہری” بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، اسی کی تنظیم (بی ایل اے) نے یہ اعتراف کر لیا ہے کہ وہ مسلح تصادم کے دوران مارا گیا تھا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اس طرح کا تضاد سامنے آیا ہو؛ اس سے قبل بھی ایسے کئی واقعات ریکارڈ پر ہیں:
- سلیم بلوچ: جنہیں طویل عرصے تک “لاپتہ” ظاہر کیا گیا، بعد میں بی ایل اے نے خود ان کے عسکریت پسند تربیتی پس منظر کا اعتراف کیا۔
- صہیب لانگو: گمشدگی کی مہم کا حصہ رہنے والےہی صہبیب لانگو کو قلات میں سیکیورٹی آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا، جہاں وہ فتنہ الخوارج سے وابستہ پائے گئے۔
- کریم جان اور عبدالودود: یہ نام بھی ماضی میں لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کیے گئے لیکن بعد میں وہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں مارے گئے مل نکلے۔
- دیگر واقعات: آصف بلوچ، راشد بلوچ، برہان بلوچ اور حفیظ بلوچ سمیت کئی ایسے افراد جنہیں لاپتہ ظاہر کیا گیا تھا، یا تو دہشت گردوں کے کمانڈر اللہ نظر کے ساتھ پناہ گاہوں میں دیکھے گئے یا پھر مستونگ میں انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز کے دوران مارے گئے۔
حقائق کا تقاضا: بلوچستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ صرف نعرے بازی اور یک طرفہ دعوؤں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ جب کسی فرد کی نام نہاد گمشدگی کے بعد اس کا تعلق کسی دہشت گرد تنظیم سے ثابت ہو جائے، یا وہ سیکیورٹی فورسز کے خلاف لڑتے ہوئے مارا جائے، تو اس حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حقیقی لاپتہ افراد کے معاملے کی جانچ پڑتال نہ کی جائے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے دہشت گردوں کو معصوم شہری قرار دے کر حقائق مسخ کیے جاتے ہیں۔ نثار احمد کے معاملے میں بی ایل اے کا اپنا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ نام نہاد “لاپتہ افراد” کے پیچھے چھپے چہرے دراصل ریاست اور عوام کے دشمن ہیں۔



