
خبر کدا ویب ڈیکس: امریکہ کی جانب سے بھارت پر سو فیصد تک کے بھاری ٹیرف کا حقیقی خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے واشنگٹن کو خوش کرنے کی تمام تر کوششیں رائیگاں جاتی دکھائی دے رہی ہیں، یہاں تک کہ اس حکمت عملی کے نتیجے میں برکس اتحاد کو بھی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نئی دہلی نے چین کے اس مشورے کو نظر انداز کیا جس میں مشرق کی طرف دیکھنے پر زور دیا گیا تھا، اس امید پر کہ امریکہ کو راضی کرنے سے ٹیرف میں نرمی مل جائے گی اور ساتھ ہی سستا روسی تیل بھی جاری رہے گا، مگر یہ توازن برقرار رکھنے کی پالیسی ناکام ثابت ہو چکی ہے۔ خود بھارتی حکومت کے اپنے تخمینوں کے مطابق، امریکی اقدامات کی وجہ سے لگ بھگ سینتالیس اعشاریہ دو ارب ڈالر کی بھارتی برآمدات پہلے ہی متاثرہ بریکٹ میں آ چکی ہیں۔ اس صورتحال کے بعد بھارت کے ٹیکسٹائل، جیمز اینڈ جیولری، مشینری اور اسٹیل سمیت دیگر اہم برآمدی شعبے شدید دباؤ کی زد میں آ گئے ہیں، اور بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ عالمی سفارت کاری میں ہر طرف لڑھکنے والی پالیسی زیادہ دیر کارگر ثابت نہیں ہو سکتی۔



