
خبر کدا ویب ڈیکس: ایچ آر کونسل آف بلوچستان (HRCB) کی جانب سے جس نرسنگ طالبہ خدیجہ کی مبینہ “جبری گمشدگی” اور “ریاستی اغوا” کا شور مچایا گیا تھا، حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی ہے۔ ریاستی اداروں کے حراست میں لینے اور میڈیا کے سامنے حقائق آنے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ پروپیگنڈا دہشت گرد نیٹ ورک کو چھپانے کی ایک کوشش تھی۔
حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، وہی خدیجہ جو سوشل میڈیا پر معصوم طالبہ اور جبری گمشدگی کا شکار ظاہر کی جا رہی تھی، حقیقت میں کالعدم تنظیموں کے لیے دہشت گردانہ کارروائیوں اور مالی و آپریشنل سہولت کاری میں براہِ راست ملوث پائی گئی ہے۔
- جھوٹا بیانیہ: ایچ آر کونسل نے دعویٰ کیا تھا کہ خدیجہ کو بے بنیاد طور پر اٹھایا گیا ہے اور اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔
- حقیقتی عیاں: حقیقت یہ ہے کہ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست کے بعد خدیجہ نے خود میڈیا کے سامنے پریس کانفرنس میں اپنے دہشت گردانہ روابط کا اعتراف کیا۔
- دہشت گردوں سے روابط: خدیجہ نے اعتراف کیا کہ ان کے شوہر کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا اور وہ خود نوکنڈی دھماکے سمیت مختلف پرتشدد کارروائیوں اور منصوبوں کا حصہ رہی ہیں۔
یہ کیس ایک بار پھر یہ ثابت کرتا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے کارندوں اور سہولت کاروں کو بچانے کے لیے انسانی حقوق کے نام پر کس طرح جھوٹے اور من گھڑت بیانیے بنائے جاتے ہیں، جنہیں حقائق سامنے آنے پر مکمل طور پر شکست ہو جاتی ہے۔



