
خبر کدا)ویب ڈیکس(: بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کی جانب سے جنیوا اور اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے باہر “آزادیِ بلوچستان” کے مطالبے کے تحت بیک وقت احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں، جنہیں تجزیہ کاروں اور سیکیورٹی حلقوں کی جانب سے کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے سیاسی و پروپیگنڈا ونگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی رپورٹس اور تجزیات کے مطابق، بیرون ملک اس نوعیت کے متوازی مظاہرے کسی حقیقی عوامی تحریک کی عکاسی نہیں کرتے، بلکہ یہ چند کارکنان کی جانب سے محض فوٹو سیشنز ہیں جن کا مقصد بین الاقوامی سطح پر ایک ایسا علیحدگی پسند بیانیہ اجاگر کرنا ہے جو براہِ راست کالعدم تنظیموں مثلاً بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) کے نظریاتی اور آپریشنل نیٹ ورک سے جڑا ہوا ہے۔
قیادت کے کالعدم تنظیموں سے روابط:
رپورٹس سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ BNM کی قیادت، بالخصوص اس کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے کالعدم BLA کے ساتھ گہرے روابط رہے ہیں۔ سیکیورٹی جائزوں کے مطابق وہ ماضی میں BLA کے خودکش ونگ “مجید بریگیڈ” کی منصوبہ بندی اور فکری تشکیل میں مبینہ طور پر ملوث رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈاکٹر نسیم بلوچ کے دیرینہ تعلقات BLF کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نثار بلوچ کے ساتھ بھی بتائے جاتے ہیں، اور دونوں کا تعلق طالب علم سیاست کے اسی دور سے ہے جب وہ 2005 میں اکٹھے حراست میں بھی رہے تھے۔
بیرونی پروپیگنڈا بمقابلہ زمینی حقائق:
جہاں ایک طرف BNM کی قیادت بین الاقوامی پلیٹ فارمز اور سیاسی بینرز کے تلے مظاہرے کر کے خود کو سیاسی چہرہ ظاہر کرتی ہے، وہیں دوسری طرف زمین پر یہی فکری رشتہ رکھنے والی تنظیمیں (BLA اور BLF) بلوچستان میں معاشی منصوبوں، سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بناتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ BNM کا سیاسی بیانیہ اور عسکریت پسندوں کی پرتشدد کارروائیاں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؛ ایک طرف بیرون ملک سیاسی جواز حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو دوسری طرف اندرونِ ملک خوف پھیلایا جاتا ہے۔
بین الاقوامی مقامات پر ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں میں مبینہ طور پر صرف ایک رخ کی شکایات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ کالعدم تنظیموں کی طرف سے عام شہریوں کے قتل، دھمکیوں اور جبری بھرتیوں جیسے انسانی حقوق کے سنگین مسائل پر ہمیشہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
ریاستی اور سیاسی مبصرین کا واضح موقف ہے کہ چند افراد کے استعراض اور سوشل میڈیا کے ہیش ٹیگز سے پاکستان کی آئینی حیثیت، خودمختاری اور جمہوری عمل کو تبدیل نہیں کیا ۔ دہشت گردی کے ذریعے حاصل کیے جانے والے مقاصد کو بین الاقوامی فورمز پر پروپیگنڈے کے ذریعے قانونی جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔



