
خبر کدا)ویب ڈیکس(: گُلزادی بلوچ کو قتل کے ایک مقدمے میں سنائی گئی عمر قید کی سزا کے بعد مختلف سیاسی اور کارکن نیٹ ورکس کی جانب سے اسے “سیاسی انتقام” قرار دینے کی مہم چلائی جا رہی ہے، تاہم عدالتی ریکارڈ اس کے برعکس ایک عام فوجداری مقدمے کی کہانی بیان کرتا ہے۔
عدالتی اور قانونی دستاویزات کے مطابق، گُلزادی بلوچ کو اکتوبر 2022 میں مچھ پولیس اسٹیشن میں درج ہونے والے قتل کے مقدمے (ایف آئی آر نمبر 51/22) میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس کیس کا مرکزی محرک قاضی محمد اعظم کا قتل ہے جو کہ مقتول کے خاندانی پس منظر کے مطابق ان کے بہنوئی تھے، اور یہ المناک واقعہ ان کی بہن گُنج بی بی کے ساتھ خاندانی و گھریلو تنازعات کا نتیجہ تھا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل گُلزادی نے اپنے بھائی عبدالودود ستکزی کے لیے بھی مہم چلائی تھی، جسے بعد میں کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے اپنا ہلاک شدہ جنگجو تسلیم کر لیا تھا، جس نے جبری گمشدگی کے تمام سابقہ پروپیگنڈے کی حقیقت کھول دی تھی۔
قانونی راستے بمقابلہ پروپیگنڈا مہم: دفاعی وکلاء کی جانب سے ٹرائل کے دوران بعض ضابطہ جاتی نکات پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، جن میں سزا کے وقت ملزمہ کی عدم موجودگی اور دفعہ 342 CrPC کے تحت بیان کا معاملہ شامل ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے ضابطہ جاتی امور کو حل کرنے کے لیے ہائیکورٹ اور اپیل کے مجاز فورمز موجود ہیں، جہاں قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔
تاہم، قانونی تجزیہ کاروں کا واضح موقف ہے کہ ایک خاندانی اور ذاتی دشمنی کے قتل کو سیاسی ظلم یا انسانی حقوق کا کیس بنا کر پیش کرنا محض عدالتی کارروائی کو متنازع بنانے کی کوشش ہے۔ قانون ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا حق دیتا ہے، لیکن کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ فوجداری جرائم کو سیاسی لبادہ پہنا کر قانون کی گرفت سے بچنے کی کوشش کرے۔



