افغانستان دہشت گردی کا گڑھ: داعش خوراسان کا سربراہ ثناء اللہ غفاری کنڑ میں دیکھا گیا

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

خبر کدا)ویب ڈیکس(: بین الاقوامی رپورٹس اور تازہ ترین انٹیلی جنس اطلاعات نے افغانستان کے اندر موجود پیچیدہ اور گہرے دہشت گرد نیٹ ورکس کا ایک بار پھر پردہ فاش کر دیا ہے، جہاں خطے کے خطرناک ترین دہشت گرد عناصر کھلے عام پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ثناء اللہ غفاری کی کنڑ میں موجودگی: اقوام متحدہ کی داعش (داعش/دائیش) کے خطرات سے متعلق 18ویں رپورٹ اور دیگر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، داعش خوراسان (ISIS-K) کا سربراہ ثناء اللہ غفاری، جو “شہاب المہاجر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، زندہ ہے اور اس وقت افغانستان کے صوبے کنڑ میں موجود ہے۔ اس انکشاف نے دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد رہنماؤں میں سے ایک کی افغان سرزمین پر موجودگی کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان بین الاقوامی دہشت گرد قیادت کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔

حقانی نیٹ ورک سے پرانے روابط اور پس منظر: سیکیورٹی جائزوں اور جنرل سامی سادات جیسے عسکری ماہرین کے مطابق، ثناء اللہ غفاری کا ماضی عسکریت پسند گروپوں کے درمیان گہرے گٹھ جوڑ کی عکاسی کرتا ہے۔ غفاری کابل پولی ٹیکنیک یونیورسٹی کا طالب علم رہا ہے، جہاں سے وہ بعد میں حقانی نیٹ ورک سے وابستہ ہوا، اور اسی نیٹ ورک کی مدد سے وہ داعش خوراسان کی قیادت کے منصب تک پہنچا۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق، غفاری پورے افغانستان میں داعش خوراسان کے آپریشنز کی منظوری دینے اور ان کے لیے فنڈنگ کا انتظام کرنے کا مرکزی ذمہ دار ہے۔

مظبوط دہشت گرد گٹھ جوڑ: کنڑ میں ثناء اللہ غفاری کی موجودگی، طالبان جنگجوؤں کا داعش میں انضمام اور القاعدہ کی طرف سے عسکریت پسندوں کو ملنے والی مسلسل حمایت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغان سرزمین پر تمام دہشت گرد تنظیمیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ یہ تنظیمیں الگ تھلگ کام کرنے کے بجائے مشترکہ طور پر بھرتیوں، محفوظ پناہوں اور آپریشنل نیٹ ورکس کو چلا رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین پر داعش کے سربراہ کی موجودگی، حقانی نیٹ ورک سے اس کے پرانے روابط اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ افغانستان بین الاقوامی اور علاقائی دہشت گردی کے لیے ری گروپنگ اور ریکروٹمنٹ کا ایک فعال مرکز بنا ہوا ہے۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

تاریخی حقائق بمقابلہ بے بنیاد دعوے: مشرف حسین سید کا اسامہ بن لادن سے متعلق بیان

سینئر سیاستدان مشرف حسین سید کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تربیت کی تھی۔” تاہم، تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ مختلف ادوار اور نیٹ ورکس کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ بناتا ہے جس کی کوئی تاریخی تصدیق نہیں ہوتی。

Read More »

آپریشن ردالفتنہ 3: کیچ مزابند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک

خبر کدا ویب ڈیکس: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔ ضلع کیچ کے علاقے مزابند رینج میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے ایک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے۔

Read More »

ایک ہی سٹیج، ایک ہی سکرپٹ: جنیوا میں پی ٹی ایم اور بی این ایم کا اتحاد بے نقاب

خبر کدا ویب ڈیکس: بین الاقوامی فورمز پر سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے ریاست مخالف عناصر کے درمیان گہرے روابط کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

Read More »