افغان سرزمین دہشت گردی کا گڑھ بنی ہوئی ہے: 260 شناخت شدہ افغان دہشت گردوں کے شواہد سامنے آ گئے

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

خبر کدا ویب ڈیکس: افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردوں سے لاتعلقی کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں، کیونکہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال جاری رہنے کے حوالے سے ٹھوس اور دستاویزی شواہد منظر عام پر آ چکے ہیں۔

پاکستان میں سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں کے دوران مارے جانے والے 260 افغان دہشت گردوں کی شناخت نام، پتوں اور خاندانی تفصیلات سمیت مکمل ہو چکی ہے۔ یہ تعداد صرف ان عناصر کی ہے جن کی تصدیق ہو سکی ہے، جبکہ غیر شناخت شدہ اور فعال دہشت گرد نیٹ ورکس اس کے علاوہ ہیں۔

اہم حقائق اور اعداد و شمار ایک نظر میں

زمرہتفصیل / اعداد و شمار
شناخت شدہ افغان دہشت گرد260 دہشت گردوں کی نام اور پتے سمیت مکمل تصدیق
دراندازی کا تناسبفتنۃ الخوارج کے گروپس میں 70 فیصد تک دہشت گرد افغان نژاد
انسانی نقصانافغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں 1,327 پاکستانی شہید اور 2,484 زخمی
دہشت گردوں کی افرادی قوتاقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں فتنۃ الخوارج کے 6,000 سے 6,500 جنگجو موجود
سالانہ حملےپاکستان کے خلاف سرحد پار سے 600 سے زائد حملے ریکارڈ

دہشت گردوں کے جنازوں میں سرکاری شرکت

لاتعلقی کے دعویداروں کا اصل چہرہ اس وقت بے نقاب ہوا جب پاکستان میں مارے جانے والے افغان دہشت گردوں کے آبائی علاقوں میں جنازے منعقد ہوئے، اور ان میں افغان طالبان رجیم کے ذمہ دار عہدیداروں نے کھلے عام شرکت کی۔ مبصرین کے مطابق، ان جنازوں میں سرکاری اہلکاروں کی موجودگی اس امر کا پختہ ثبوت ہے کہ رجیم اور دہشت گردوں کے درمیان گہرے نظریاتی اور انتظامی روابط موجود ہیں۔

جدید امریکی اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ میں

رپورٹس کے مطابق طالبان رجیم نے افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کا چھوڑا ہوا جدید ترین فوجی سازوسامان بھی فتنۃ الخوارج اور دیگر کالعدم تنظیموں کے حوالے کر دیا ہے۔ اس وقت دہشت گردوں کے زیر استعمال اہم ہتھیاروں میں درج ذیل شامل ہیں:

  • ایم فور (M4) رائفلیں
  • رمنگٹن (Remington) سنائپر رائفلیں
  • جدید نائٹ وژن اور تھرمل آلات

تربیتی مراکز اور غیر ملکی نیٹ ورکس

افغانستان کے اندرونی علاقوں بالخصوص کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں فتنۃ الخوارج کے مضبوط تربیتی مراکز قائم ہیں۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ ان تربیتی کیمپوں میں افغان طالبان رجیم کے اہلکار بھی دہشت گردوں کے شانه بشانہ سرگرم ہیں۔ اس کے علاوہ، اقوام متحدہ کی رپورٹس اس بات کی بھی تصدیق کرتی ہیں کہ افغان سرزمین پر القاعدہ، ETIM اور داعش جیسے بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورکس بھی محفوظ پناہ گاہیں چلا رہے ہیں۔

پاکستان کا دوٹوک مؤقف

پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کا موقف بالکل واضح ہے کہ اب محض زبانی جمع خرچ یا تردیدی بیانات سے کام نہیں چلے گا۔ پاکستان کا دوٹوک مطالبہ ہے کہ افغان رجیم اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے تربیتی مراکز فوری طور پر ختم کرے، سرحد پار دراندازی کا سلسلہ روکے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا لانچ پیڈ بننے سے سختی سے روکے۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

تاریخی حقائق بمقابلہ بے بنیاد دعوے: مشرف حسین سید کا اسامہ بن لادن سے متعلق بیان

سینئر سیاستدان مشرف حسین سید کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تربیت کی تھی۔” تاہم، تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ مختلف ادوار اور نیٹ ورکس کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ بناتا ہے جس کی کوئی تاریخی تصدیق نہیں ہوتی。

Read More »

آپریشن ردالفتنہ 3: کیچ مزابند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک

خبر کدا ویب ڈیکس: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔ ضلع کیچ کے علاقے مزابند رینج میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے ایک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے۔

Read More »

ایک ہی سٹیج، ایک ہی سکرپٹ: جنیوا میں پی ٹی ایم اور بی این ایم کا اتحاد بے نقاب

خبر کدا ویب ڈیکس: بین الاقوامی فورمز پر سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے ریاست مخالف عناصر کے درمیان گہرے روابط کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

Read More »