بی ایل اے میں قیادت پر جنگ چھڑ گئی ریفارم کونسل کا علانیہ چیلنج، کیا تنظیم دو ٹکڑے ہونے والی ہے؟

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے اندر قیادت، مالیاتی عدم شفافیت اور تنظیمی کنٹرول پر شدید اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ ابھرتی ہوئی اندرونی کشیدگی سے یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیا یہ عسکریت پسند تنظیم ایک اور بڑی تقسیم کی طرف بڑھ رہی ہے؟ جو معاملہ ابتداء میں محض اصلاحات کی اندرونی جدوجہد نظر آتا تھا، وہ اب مخالف کمانڈروں، قیادت کے دعووں اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) کے ساتھ کھلے عام تصادم کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

اصلاحاتی کونسل کی بغاوت اور سنگین الزامات

20 اکتوبر 2026ء کو اس تنازع نے اس وقت شدت اختیار کی جب ‘ریفارم کمانڈ کونسل’ (Reform Command Council) کے بینر تلے باغی کمانڈروں کے ایک گروپ نے موجودہ قیادت کو علانیہ چیلنج کر دیا۔ باغی کمانڈروں کے الزامات محض معمولی تنظیمی اختلافات تک محدود نہیں ہیں، بلکہ انہوں نے:

  • اختیارات کا تمرکز: چند مخصوص ہاتھوں میں تمام تر طاقت کی منتقلی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
  • مالیاتی بے ضابطگیاں: تنظیم کو ملنے والے مالیاتی وسائل کی فراہمی اور ان کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
  • بیانیے کا تصادم: تنظیم کے نام پر جاری کیے جانے والے سرکاری بیانات کی قانونی حیثیت کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔

اگرچہ ان الزامات کی مستقل تصدیق باقی ہے، لیکن ان کا یوں علانیہ سامنے آنا موجودہ کمانڈ سٹرکچر کے لیے ایک بڑا اور غیر معمولی چیلنج ہے۔

بی ایل ایف (BLF) کے ساتھ علانیہ تصادم

اس صورتحال میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) نے بی ایل اے کے بعض عناصر پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے بلوچستان میں ایک حالیہ مسلح کارروائی کے دوران بی ایل ایف کی شناخت کا غلط استعمال کیا۔

اس زبانی اور تنظیمی تصادم نے دونوں عسکریت پسند گروہوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ مختلف عسکریت پسند میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے متضاد بیانات کی گردش نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ تنظیمی دھڑے بندی کے اثرات دیگر گروہوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

تاریخی تناظر اور مستقبل کا منظرنامہ

یہ تمام پیش رفت بلوچ عسکریت پسند تنظیموں میں ماضی کی ان تقسیمات کی یاد تازہ کرتی ہے جہاں قیادت اور وسائل پر جھگڑوں کے نتیجے میں نئے گروہ اور دھڑے وجود میں آئے تھے۔ تاہم، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ تصادم محض ایک عارضی اندرونی پاور اسٹرگل ہے یا پھر یہ بلوچستان میں عسکریت پسندی کے پورے فریم ورک اور منظرنامے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دے گا؟

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

مولانا فضل الرحمان کا 2003 کا دورۂ بھارت: شملہ معاہدہ، ایل او سی اور آر ایس ایس سے روابط سے متعلق بھارتی میڈیا کی رپورٹس کا انکشاف

خبرکدا ویب ڈیکس:  جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے جولائی 2003ء میں کیے گئے دورۂ بھارت کے حوالے سے بھارتی اخبار دی ٹیلیگراف اور انگریزی میڈیا کی آرکائیو رپورٹس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ صحافی بھارت بھوشن کے تحریر کردہ مضمون “مولانا آن اے مشن” اور دیگر بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دورے کے دوران مسئلہ کشمیر، شملہ معاہدے، لائن آف کنٹرول (LoC) اور ہندو قوم پرست تنظیموں سے روابط سے متعلق اہم گفتگو کی گئی تھی۔

Read More »

کوہلو کے شیر باز مڑی نے گولڈ میڈل جیت کر پاکستان اور بلوچستان کا نام روشن کر دیا

خبرکدا ویب ڈیکس:  بلوچستان کے ضلع کوہلو سے تعلق رکھنے والے قومی مکسڈ مارشل آرٹس (MMA) فائٹر شیر باز مڑی نے کزاکستان میں منعقدہ ورلڈ نومیڈ ایم ایم اے چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا ہے۔

Read More »

خیبرپختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات میں لگایا گیا، بروقت اقدام نہ ہوتا تو دہشت گردی سے مزید نقصان پہنچ سکتا تھا: وزیراعظم شہباز شریف

خبرکدا ویب ڈیکس:  وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ ناگزیر حالات میں کیا گیا۔ اگر یہ بروقت اقدام نہ اٹھایا جاتا تو صوبے کو دہشت گردی کے باعث مزید شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔

Read More »

خوارج کا نشانہ خیبرپختونخوا کے بہادر بیٹے: پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ پر سخت ردِعمل

خبرکدا ویب ڈیکس:  خیبرپختونخوا میں گزشتہ ہفتے کے دوران باجوڑ، لکی مروت اور بنوں میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خوارج اور دہشت گرد عناصر ریاست کی پہلی دفاعی لائن کو کمزور کرنے کے لیے خیبرپختونخوا پولیس کے بہادر جوانوں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔

Read More »