31-OCT-2026

خبرکدا ویب ڈیکس: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ ناگزیر حالات میں کیا گیا۔ اگر یہ بروقت اقدام نہ اٹھایا جاتا تو صوبے کو دہشت گردی کے باعث مزید شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر خیبرپختونخوا میں آباد کیا گیا، جس کے نتیجے میں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا اور ملکی سلامتی و معیشت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
مذاکرات کی ناکامی اور آئینی فیصلہ
وزیراعظم شہباز شریف نے وضاحت کی کہ حکومت نے سیاسی و آئینی بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پر مشتمل کمیٹی نے مسلسل 48 گھنٹے تک بات چیت کی، لیکن طے شدہ مسودے کی باقاعدہ منظوری نہ مل سکی۔ ان کے مطابق عوام، معیشت اور ریاست کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے آئینی فیصلہ کرنا لازمی ہو چکا تھا۔
800 ارب روپے کے فنڈز اور انسدادِ دہشت گردی پر سوالات
وزیراعظم نے 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کو انسدادِ دہشت گردی کی مد میں ایک فیصد اضافی وسائل کے تحت اب تک 800 ارب روپے منتقل کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ:
“ان وسائل سے صوبے میں کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (CTD) کو کتنا مضبوط بنایا گیا؟ پولیس کی 5 ہزار خالی آسامیوں پر بھرتیاں کیوں نہیں کی گئیں؟ یہ وسائل پولیس کو جدید اسلحہ اور معیاری تربیت کی فراہمی پر خرچ ہونے چاہیے تھے۔“
ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں گزشتہ 13 سال سے قائم حکومت نے عوامی خدمت اور ترقی کے بجائے محض سیاسی نعروں اور تقسیم کی سیاست پر توجہ مرکوز رکھی، جس سے پشاور سے لے کر ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک عوامی مسائل نظر انداز ہوئے۔
خیبرپختونخوا کے عوام اور شہداء کی قربانیاں
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس، پاک فوج اور سیاسی رہنماؤں کی قربانیاں بے مثال ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دورِ حکومت میں پوری قوم اور قومی اداروں نے یکجا ہو کر دہشت گردی کا قلع قمع کیا تھا، اور آرمی پبلک اسکول (APS) پشاور کا سانحہ آج بھی قوم کے دلوں میں نقش ہے۔
عوام کے لیے 75 ارب روپے کا معاشی ریلیف
ملکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عسکری اور سیاسی قیادت کے مشترکہ اقدامات سے معیشت استحکام کی طرف گامزن ہے۔ عالمی سطح پر خلیجی خطے میں جنگ اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے 75 ارب روپے کی فیول سبسڈی اسکیم شروع کی گئی ہے، جس سے اب تک 1 کروڑ 30 لاکھ سے زائد مستحق افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
وزیراعظم نے عزم ظاہر کیا کہ مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے عوام کو درپیش چیلنجز سے نکالنے اور صوبے کی پائیدار ترقی و خوشحالی کے لیے اپنی جاں فشانہ کوششیں جاری رکھے گی۔



