31-OCT-2026

خبرکدا ویب ڈیکس: قومی احتساب بیورو (نیب) کی شکایت کنندہ کمیٹی نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، ان کے اہل خانہ اور مبینہ فرنٹ مینز کے اربوں روپے کے نامی اور بے نامی اثاثوں کے خلاف باقاعدہ انکوائری کی منظوری دینے کی سفارش کر دی ہے۔
قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے تحت تیار کردہ دستاویزات کے مطابق، مولانا فضل الرحمان پر بنوں روڈ پر بھائیوں کے لیے بنگلے تعمیر کرانے، شوگر مل کے حصول، 300 کنال زرعی اراضی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے موضع رتہ کلاچی میں سرکاری ملکیت کی زرعی زمین مبینہ طور پر اپنے نام منتقل کرانے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ابتدائی الزامات اور جائیداد کی تفصیلات
نیب دستاویزات اور ڈپٹی کمشنر آفس ڈیرہ اسماعیل خان کی رپورٹ کے مطابق، مولانا فضل الرحمان کے نام پر عبدل خیل پہاڑ پور میں 15 لاکھ روپے مالیت کا ایک مکان، شور کوٹ میں 25 لاکھ روپے کا مکان اور اس سے ملحقہ 7 لاکھ روپے مالیت کا 5 کنال کا پلاٹ موجود ہے جس پر مزید دو مکانات تعمیر کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے 2017 اور 2018 کے ریکارڈ کے مطابق ان کے پاس 9 لاکھ 50 ہزار روپے کے زیورات، 60 ہزار روپے کا فرنیچر اور الائیڈ بینک اکاؤنٹ میں 20 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد کی رقم درج تھی۔ ڈی سی رپورٹ کے مطابق شور کوٹ میں ان کی 47 کنال 4 مرلہ اراضی بھی رجسٹرڈ ہے۔
اہل خانہ اور رشتہ داروں کے نام اثاثے
رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے بھائی لطف الرحمان کے نام 3 کنال 7 مرلہ اور عطا الرحمان کے نام 13 مرلہ زمین درج ہے۔ اس کے علاوہ، 2013 میں درآمد شدہ تقریباً 60 لاکھ روپے مالیت کی لینڈ کروزر پراڈو بھی لطف الرحمان کے نام پر درج ہے۔
تحقیقات اور بے نامی اثاثوں کا انکشاف
یہ کیس جولائی 2020 کے اجلاس میں نیب ہیڈکوارٹرز کو باقاعدہ انکوائری کے لیے بھیجنے کی تجویز کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ مجاز اتھارٹی کی ہدایات پر کی گئی مزید تحقیقات میں مولانا فضل الرحمان اور ان کے فرنٹ مینز کے متعدد نئے اثاثے سامنے آئے ہیں۔ نئی رپورٹس کے مطابق:
- ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور: ڈی آئی خان میں 2 مکانات، 1 پلاٹ، پنیالہ میں 1 مکان اور 5 ایکڑ زمین، عبدل خیل اور شور کوٹ میں مکانات، مدارس اور 5، 5 ایکڑ زمین موجود ہے۔
- بڑے شہر اور بیرون ملک: ایف-8 اسلام آباد میں ایک بنگلہ، پشاور، کراچی اور کوئٹہ میں متعدد فلیٹس و دکانیں، اور دبئی میں ایک فلیٹ بھی سامنے آیا ہے۔
- اسلام آباد جائیداد: چک شہزاد اسلام آباد میں سابق سینیٹر غلام علی اور ان کے بیٹے فیاض علی (مولانا فضل الرحمان کے داماد) کے ذریعے 3 ارب روپے کی زمین خرید کر بھاری منافع پر فروخت کیے جانے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔
فرنٹ مینز کے نام پر کروڑوں کی اراضی اور سرکاری الاٹمنٹ
تحقیقاتی ٹیم کے مطابق، مولانا فضل الرحمان کے فرنٹ مینز کے نام پر 68 کروڑ 60 لاکھ روپے مالیت کی 3640 کنال اراضی اور مجموعی طور پر 17 ہزار 192 کنال سے زائد کی بے نامی ملکیت اور سرکاری اراضی موجود ہے۔ اس میں گاؤں ہمت، بابر کچا، رمک، موضع شیخ راجا، گڑھی رحمان، اور نواب اڈا موضع مریالی کے قیمتی رقبے شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، حاجی جلال خان وزیر اور گل اصغر وزیر کے ناموں پر بھی ہزاروں کنال اراضی درج ہے (بشمول قبضے کی زمینیں)۔ دستاویزات کے مطابق 2006 سے 2011 کے دوران رکھ زنڈانی، رکھ کیپٹن کرنل شیر خان شہید اور محکمہ جنگلات کی قیمتی سرکاری اراضی مبینہ طور پر غیر قانونی یا نامناسب طریقوں سے الاٹ کرائے جانے کے معاملات بھی نیب کی تحقیقات کا حصہ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی غیر جانبدارانہ اور مؤثر انکوائری قومی اثاثوں کے تحفظ اور احتساب کے شفاف عمل کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔



