31-OCT-2026

خبرکدا ویب ڈیکس: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC)، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹس اور قومی احتساب بیورو (نیب) کی دستاویزات میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے دورِ اقتدار کے دوران وفاقی وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس میں سنگین کرپشن، جعل سازی اور مالی بے ضابطگیوں کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
دستاویزی حقائق کے مطابق، جے یو آئی (ف) کو وفاق میں 2008ء سے 2013ء اور بعد ازاں اپریل 2022ء سے اگست 2023ء (پی ڈی ایم حکومت) کے دوران وزارتِ ہاؤسنگ کا قلمدان ملا، جہاں جے یو آئی کے مرکزی رہنما مولانا عبد الواسع وفاقی وزیر مقرر ہوئے۔ ان ادوار کی آڈٹ رپورٹس نے سرکاری پلاٹوں، فنڈز اور سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ میں سنگین بے ضابطگیاں فلیگ کی ہیں۔
اسٹیٹ آفس میں جعلی الاٹمنٹس کا دھندا
رپورٹ کے مطابق سب سے بڑا اسکینڈل اسلام آباد کے اسٹیٹ آفس میں سامنے آیا، جہاں سرکاری ملازمین کے لیے مخصوص گھروں اور فلیٹس کو غیر قانونی طور پر جاری کیا گیا۔ آڈٹ رپورٹ اور نیب انکوائری کے مطابق، جنرل ویٹنگ لسٹ میں موجود حقدار سرکاری ملازمین کی باری کو پسِ پشت ڈال کر نجی ایجنٹوں اور من پسند افراد سے بھاری رقم لے کر سیکڑوں جعلی الاٹمنٹ لیٹرز (Fake Allotments) جاری کیے گئے۔ قانون سے ہٹ کر کی جانے والی ان الاٹمنٹس کے خلاف فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) نے باقاعدہ مقدمات درج کیے۔
F-14، F-15 اور دیگر ہاؤسنگ پراجیکٹس میں اربوں روپے کا اسکینڈل
فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کے سیکٹر F-14 اور F-15 کے پراجیکٹس کے آڈٹ سے معلوم ہوا کہ سینیئر مینجمنٹ نے مخصوص ٹھیکیداروں اور نااہل ڈویلپرز کو اربوں روپے کے ٹھیکے جاری کیے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے ان پراجیکٹس میں 26 سنگین قانونی و مالی بے ضابطگیاں پائے جانے پر اس منصوبے کو منسوخ کرنے کا حکم دیا، جس سے الاٹیز اور قومی خزانے کو شدید مالی نقصان پہنچا۔
علاوہ ازیں، “گرین انکلیو-I” اور “لائف اسٹائل ریزیڈنسی G-13” جیسے منصوبوں میں سرکاری ملازمین سے جمع کیے گئے اربوں روپے کے فنڈز کو غیر منظور شدہ ایڈوانس ادائیگیوں اور دیگر مدات میں استعمال کیا گیا۔ من پسند فرموں کو بغیر بینک گارنٹی کے کروڑوں روپے ایڈوانس دیے گئے لیکن کام سالہا سال مکمل نہ ہو سکا، جس پر موجودہ وزارتِ ہاؤسنگ نے تمام پراجیکٹس کے شفاف دوبارہ آڈٹ کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
پیپرا رولز کی خلاف ورزی اور زائد نرخوں پر بلوں کی منظوری
آڈٹ رپورٹس کے مطابق وفاقی عمارات کی تزئین و آرائش اور فرنیچر کی خریداری میں پیپرا (PPRA) قوانین کو نذرِ آتش کرتے ہوئے بغیر اشتہار کے مارکیٹ ریٹ سے 200 فیصد زائد نرخوں پر بل پاس کروائے گئے۔
سیاسی و عوامی حلقوں کے مطابق یہ دستاویزات ثابت کرتی ہیں کہ وزارتِ ہاؤسنگ میں ہونے والی یہ مالی بدعنوانیاں قانون اور شفافیت کے دعووں پر سوالیہ نشان اٹھاتی ہیں اور اس پر سخت احتساب کی ضرورت ہے۔



