31-OCT-2026

خبرکدا ویب ڈیکس: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے جولائی 2003ء میں کیے گئے دورۂ بھارت کے حوالے سے بھارتی اخبار دی ٹیلیگراف اور انگریزی میڈیا کی آرکائیو رپورٹس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ صحافی بھارت بھوشن کے تحریر کردہ مضمون “مولانا آن اے مشن“ اور دیگر بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دورے کے دوران مسئلہ کشمیر، شملہ معاہدے، لائن آف کنٹرول (LoC) اور ہندو قوم پرست تنظیموں سے روابط سے متعلق اہم گفتگو کی گئی تھی۔
مسئلہ کشمیر، شملہ معاہدہ اور ایل او سی پر مؤقف
بھارتی اخبار دی ٹیلیگراف کی 31 جولائی 2003ء کی رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے دیوبند میں خطاب اور بھارتی رہنماؤں سے گفتگو کے دوران کشمیر کو مذہبی تنازع کے بجائے دو حکومتوں کے درمیان سیاسی و علاقائی مسئلہ قرار دیا اور شملہ معاہدے کے تحت دوطرفہ مذاکرات کی حمایت کی۔
رپورٹ کے مطابق مولانا نے اس امکان کا بھی اظہار کیا تھا کہ اگر پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام متفق ہوں تو ایل او سی کی بنیاد پر بھی کسی حل تک پہنچا جا سکتا ہے۔ تاہم، بعد ازاں 20 جولائی 2003ء کو ٹائمز آف انڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وضاحت کی تھی کہ بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے ملاقات کے دوران ایل او سی کو بین الاقوامی سرحد بنانے یا شملہ معاہدے پر کوئی باقاعدہ بات چیت نہیں ہوئی تھی۔
بھارتی وزیراعظم سے ملاقات اور بیک چینل سفارت کاری
دی ٹیلیگراف نے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی جانب سے مولانا فضل الرحمان سے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کو ایک اہم پیشرفت قرار دیا تھا۔ اس وقت واجپائی پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف یا حریت رہنماؤں سے ملاقاتیں نہیں کر رہے تھے۔ اس ملاقات میں واجپائی نے سارک (SAARC) اجلاس میں شرکت کی تصدیق کی اور ان کے ذریعے ایک خط بھی فوری طور پر پاکستانی وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی تک پہنچایا گیا۔
اخبار کے مطابق دورے سے قبل پاکستانی حکام کی بریفنگ کی بنیاد پر یہ قیاس آرائیاں کی گئیں کہ یہ دورہ محض ذاتی سرگرمی کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر رسمی بیک چینل سفارت کاری (Back-channel Diplomacy) کا حصہ ہو سکتا ہے۔
آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد سے رابطے
دورے کا ایک اور اہم پہلو ہندو قوم پرست تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں تھیں۔ دی ٹیلیگراف اور ریڈف (25 جولائی 2003) کی رپورٹس کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) اور وشوا ہندو پریشد کے نمائندوں سے ملاقات کی اور تجارت و معاشی روابط بڑھانے پر زور دیا۔
مولانا کے میزبان محمود مدنی نے ان ملاقاتوں کے حوالے سے کسی بھی خفیہ ایجنڈے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اس کا واحد مقصد خطے میں امن کا فروغ ہے۔ علاوہ ازیں مولانا نے بھارت میں عسکری کیمپوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت بھی کی تھی۔
پاکستان واپسی اور کشمیری عسکریت پسندی پر بیانات
پاکستان واپسی پر بھی مولانا فضل الرحمان اپنے اختیار کردہ مؤقف پر قائم رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عسکریت پسندوں سے ہمیشہ مسلح رہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی اور کشمیری عوام کو پُرامن زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا جیسے مذہبی و سیاسی رہنما کا ان موضوعات پر گفتگو کرنا اس وقت کی فوجی و سیاسی قیادت (مشرف حکومت) کے لیے ممکنہ طور پر بیک چینل کے ذریعے سیاسی گنجائش پیدا کرنے کا باعث تھا، تاہم دورے کے بیک ڈور مقاصد، امریکی کردار اور سیاسی مفاہمت کے نکات کو بنیادی طور پر صحافتی تجزیوں اور مفروضوں کے طور پر ہی دیکھا جاتا ہے۔



