2-NOV-2026

خبرکدا)ویب ڈیکس(: فیاض الحسن چوہان نے سینئر صحافی حامد میر کے علامہ اقبال سے متعلق مضمون پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مضمون میں علامہ اقبال کی فکر اور تحریک پاکستان میں ان کے کردار کو موضوع بنا کر ایک نیا تنازع کھڑا کیا گیا ہے، جس کا مقصد بالواسطہ طور پر پاکستان کی موجودہ عسکری اور ریاستی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنانا تھا۔
علامہ اقبال کے نظریہ اور تاریخی مباحث پر گفتگو
فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ حامد میر نے اپنے مضمون میں بظاہر بھارتی ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کی جانب سے علامہ اقبال کی شاعری کو نصاب سے نکالنے کی مخالفت کی، تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے علامہ اقبال کے تصورِ پاکستان اور دو قومی نظریے پر بھی متنازع بحث چھیڑ دی۔ انہوں نے کہا کہ حامد میر نے مضمون میں علامہ اقبال اور ایڈورڈ تھامس کے خطوط کا حوالہ دیا، لیکن جسٹس جاوید اقبال کی کتاب میں اس حوالے سے پیش کی گئی واضح تردید کا ذکر نہیں کیا۔
سابق صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ علامہ اقبال کا فلسفہِ خودی، شاعری اور تحریک پاکستان کے لیے ان کی خدمات پوری قوم کے لیے محترم ہیں، اور تاریخی و فکری مباحث کو موجودہ ریاستی اداروں یا قیادت پر تنقید کا ذریعہ بنانا قطعی مناسب نہیں۔
موجودہ عسکری قیادت کا کردار اور سفارتی کامیابیاں
فیاض الحسن چوہان نے موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان سول اور عسکری قیادت کی زیرِ سرپرستی اہم سفارتی امور میں مصروف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان رابطوں اور تعلقات کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان علاقائی امن و استحکام کے لیے کوشاں ہے، علامہ اقبال کی شخصیت کو تنازعات میں گھسیٹنا اور اسے ریاستی قیادت کی مصروفیات کے خلاف استعمال کرنا غیر ضروری عمل ہے۔




