2-NOV-2026

خبرکدا)ویب ڈیکس(:جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے امریکی مخالف بیانیے اور ماضی میں امریکی سفیر سے وزارتِ عظمیٰ کے لیے مبینہ رابطوں کا معاملہ سوشل میڈیا پر ایک بار پھر زیرِ بحث آگیا ہے। اس بحث کو تازہ کرنے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈل ‘گروک’ (Grok) کے ایک جواب نے اہم کردار ادا کیا ہے।
گروک کا جواب اور وکی لیکس کی خفیہ کیبل
‘ایکس’ پر ایک صارف نے گروک سے سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمان کو بعض حلقوں میں تنقید کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے اور انہوں نے ماضی میں امریکی سفیر سے کیا بات کی تھی؟ اس کے جواب میں گروک نے نومبر 2007 کی ایک امریکی سفارتی دستاویز (وکی لیکس کیبل) کا حوالہ دیا۔
وکی لیکس پر دستیاب اس خفیہ کیبل کے مطابق، 20 نومبر 2007 کو اسلام آباد میں اس وقت کی امریکی سفیر این پیٹرسن (Anne W. Patterson) اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی تھی، جس میں مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر طلحہ محمود، سینیٹر اعظم سواتی اور ملک سکندر خان بھی شریک تھے۔
وزارتِ عظمیٰ کے لیے امریکی حمایت کی خواہش
امریکی سفارت خانے کی اس رپورٹ (عنوان: Ambassador Discusses Elections With Fazlur Rehman) کے مطابق، ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے امریکی سفیر سے براہِ راست استفسار کیا تھا کہ اگر وہ پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہو جائیں، تو کیا امریکی حکومت ان کے ساتھ تعاون کرے گی؟ انہوں نے یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ واشنگٹن اپنی تمام تر سیاسی امیدیں صرف بے نظیر بھٹو سے وابستہ نہ رکھے۔
تاہم، امریکی سفیر نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ امریکہ کی پالیسی کسی مخصوص رہنما کو اقتدار میں لانے کی حمایت کرنا نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے جمہوری فیصلے کا احترام کرنا ہے۔
امریکی سفیر کا “ووٹوں کی خرید و فروخت” سے متعلق تبصرہ
اس سفارتی دستاویز کا جو حصہ سب سے زیادہ زیرِ بحث رہا، وہ امریکی سفیر کا وہ تبصرہ ہے جس میں انہوں نے لکھا کہ مولانا فضل الرحمان بیک وقت پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو دونوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور خود کو ‘کنگ میکر’ یا وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
کیبل کے مطابق این پیٹرسن نے اپنے ایک جملے میں درج کیا تھا:
“His still significant number of votes are up for sale.” (یعنی ان کے بقول، ان کی جماعت کے ووٹوں کی قابلِ ذکر تعداد فروخت کے لیے دستیاب ہے۔)
امریکہ میں لابنگ اور سیاسی قبولیت کی کوشش
دستاویزات سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے امریکہ کے دورے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکی کانگریس اور میں لابنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سیاسی مخالفین ان پرانی دستاویزات اور امریکی سفیر کے تبصروں کو اکثر ان کے عوامی بیانیے کے تضاد کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ گرک کے اس جواب نے تقریباً دو دہائی پرانے ان تاریخی ریکارڈز کو ایک بار پھر سوشل میڈیا کے بحث مباحثے کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔




