حکومتِ بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے صوبے میں امن و امان کے قیام، ادارہ جاتی جدت اور سیکیورٹی فریم ورک کی بہتری کے لیے اصلاحات کا ایک کامیاب اور تاریخی سال مکمل کر لیا ہے। وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت کی جانے والی ان اصلاحات کا مقصد صوبے میں ریاست کی حاکمیت کو مضبوط بنانا اور عوام کو شفاف انصاف فراہم کرنا ہے۔

فیس لیس کورٹس (Faceless Courts): دہشت گردی کے سنگین مقدمات کی محفوظ سماعت کے لیے قانون سازی کی گئی۔
گواہوں کا تحفظ: Witness Protection فریم ورک اور فارنسک سائنس ایجنسی کے قوانین میں ترمیم کی گئی۔
جدید قوانین: بلوچستان پرزن اینڈ کریکشنل سروس ایکٹ 2026 اور پروبیشن اینڈ پیرول ایکٹ نافذ کیا گیا۔
- 11 لاکھ غیر قانونی مقیمین کی بے دخلی
ضلعی انتظامیہ، پولیس، لیویز، سپیشل برانچ اور ایف سی (FC) کے باہمی تعاون سے ایک بڑا آپریشن کیا گیا، جس کے تحت تقریباً 11 لاکھ (1.1 ملین) غیر قانونی غیر ملکی باشندوں کو قانونی اور منظم طریقہ کار سے واپس بھیجا گیا۔ - ٹیکنالوجی کا استعمال اور سیف سٹی پروجیکٹ
ڈیجیٹل مانیٹرنگ: سیف سٹی کے تحت کوئٹہ سمیت دیگر حصوں میں 1,500 سے زائد حساس مقامات پر جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے۔
مسروقہ گاڑیوں کی برآمدگی: جدید مانیٹرنگ کی بدولت 100 سے زائد چوری شدہ گاڑیاں برآمد کی گئیں اور متعدد ملزمان گرفتار ہوئے۔
ڈرون سرویلنس: انسدادِ دہشت گردی اور منشیات کے خلاف کارروائیوں کے لیے خصوصی ڈرون یونٹ قائم کیا گیا۔
- لیویز فورس کا پولیس میں ضم ہونا (ادارہ جاتی اصلاحات)
انتظامی کارکردگی اور آپریشنل صلاحیت کو بڑھانے کے لیے لیویز فورس کو پولیس ڈیپارٹمنٹ میں جبکہ سول ڈیفنس کو سپیشل برانچ میں ضم کر دیا گیا ہے۔
5. منشیات کے خلاف تاریخ کی بڑی مہم
ڈرون ٹیکنالوجی اور فیلڈ ٹیموں کی مدد سے ہزاروں ایکڑ پر پھیلی غیر قانونی افیون اور تمباکو کی کاشت کو تلف کیا گیا، جس سے غیر قانونی مارکیٹوں کا خاتمہ ممکن ہوا۔
خلاصہ
محکمہ داخلہ کے مطابق یہ اقدامات محض قوانین بنانے تک محدود نہیں بلکہ ایک محفوظ، مستحکم اور معاشی طور پر خوشحال بلوچستان کی بنیاد رکھ چکے ہیں۔



