بلوچستان میں فتنہ الہندوستان (FAH) کے دہشت گردوں نے ایک بار پھر نہتے اور بے گناہ محنت کشوں کو نشانہ بنایا ہے۔ 21 اگست 2026 کو مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ (گیت) میں ایک سیب کے باغ میں کام کرنے والے مزدوروں پر ڈرون کے ذریعے بزدلانہ حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 4 غریب مزدور شہید اور 3 شدید زخمی ہو گئے۔
زخمیوں اور متاثرہ محنت کشوں کی تفصیلات

ذرائع کے مطابق شہیداء اور زخمی ہونے والے تمام افراد عام مقامی مزدور تھے جو حلال روزی کمانے کے لیے باغ میں زراعت سے متعلق کام کر رہے تھے۔ زخمیوں میں کھڈ کوچہ کے رہائشی علی رضا مینگل کے علاوہ حاجی شہر (کچھی) کے رہائشی نصیب اللہ ابڑو اور خالد حسین شامل ہیں۔ اس حملے نے متعدد خاندانوں کو ان کے واحد کفیل سے محروم کر دیا ہے۔
محنت کشوں اور مزدوروں پر مسلسل بزدلانہ حملے
سیکیورٹی اور مقامی ذرائع کے مطابق یہ کوئی پہلی کارروائی نہیں ہے، بلکہ فتنہ الہندوستان دہشت گرد گروہ بلوچستان بھر میں کان کنوں، تعمیراتی مزدوروں اور کسانوں کو مسلسل ہدف بنا رہا ہے:
11 اگست 2026: چاغی (چہتر) کے قریب کرومائیٹ کی کان سے 4 مزدوروں کا اغوا۔
1 اگست 2026: باسیما (واشک) سے سستے زراعت اور تعمیرات سے وابستہ 3 سندھی مزدوروں کو اغوا کیا گیا۔
ماضی کے واقعات: تربت میں 6 مزدوروں کو اغوا کے بعد شہید کیا گیا جبکہ خضدار میں تعمیراتی کاموں سے وابستہ افراد کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
عوام دشمن اور معاشی ترقی کے خلاف ایجنڈا
زرعی شعبے، کان کنی اور تعمیراتی کاموں سے وابستہ غریب عوام کو نشانہ بنانے کا مقصد بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلانا، قانونی معاشی سرگرمیوں کو معطل کرنا اور مقامی آبادی کو روزگار سے محروم کرنا ہے۔ دہشت گردوں کی یہ کارروائیاں ان کے نام نہاد حقوق کی آڑ میں چھپے عوام دشمن اور ترقی مخالف ایجنڈے کا واضح ثبوت ہیں۔
عزمِ نو
بلوچستان کے عوام، مزدور طبقہ اور سیکیورٹی فورسز امن، استحکام اور ترقی کے سفر پر قائم ہیں۔ نہتے شہریوں اور محنت کشوں کو خون میں نہلانے والے ان دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔



