داعش خراسان (ISKP) کے رہنماؤں کی گرفتاری پر امریکا کے 10 ملین ڈالر انعام کا اعلان، افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس پر عالمی خدشات مزید گہرے

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

 (ویب ڈیسک)امریکا نے کالعدم تنظیم داعش خراسان (ISKP) کے سینئر رہنماؤں اور مالیاتی آپریٹو کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے 10 ملین (ایک کروڑ) ڈالر تک کا انعام کا اعلان کیا ہے۔ اس قدم نے ایک بار پھر افغانستان سے کام کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی پر عالمی تشویش کو اجاگر کر دیا ہے۔

امریکی ریوارڈز فار جسٹس پروگرام کی اقدام:

امریکی وزارتِ خارجہ کے ‘ریوارڈز فار جسٹس’ پروگرام کے تحت داعش خراسان کے امیر ثناء اللہ غفاری (المعروف شہاب المہاجر) اور اہم مالیاتی آپریٹو عبید اللہ (المعروف صلاح الدین یا مولوی رجب) کے بارے میں معلومات دینے پر اس بھاری انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ عالمی مبصرین اس اقدام کو افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر واشنگٹن کے شدید تحفظات کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا موقف اور دوعہ معاہدہ:

یہ پیش رفت اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم (UNMT) کی ان حالیہ رپورٹوں کے عین مطابق ہے جس میں متنبہ کیا گیا تھا کہ طالبان حکومت کی جانب سے افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کے تمام تر دعوؤں کے باوجود داعش خراسان اب بھی افغانستان میں فعال اور ایک فعال کمانڈ سٹرکچر رکھتی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، اس تنظیم کے عناصر نے اب شمالی افغانستان میں توجہ مرکوز کرنا شروع کر دی ہے۔

پاکستان اور امریکا کے درمیان انسدادِ دہشت گردی تعاون:

انعامی رقم کے اس اعلانیے نے دہشت گردی کے خلاف پاک-امریکا انٹیلی جنس تعاون کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا ہے۔

  • محمد شریف اللہ کی گرفتاری (2025): پاک سیکیورٹی اداروں نے 2025 میں داعش خراسان کے آپریٹو محمد شریف اللہ کو گرفتار کر کے امریکی حکام کے حوالے کیا تھا، جو کابل کے ایبی گیٹ (Abbey Gate) بم دھماکے میں ملوث تھا۔
  • سلطان عزیز اعظم کی گرفتاری (2025): اسی سال سیکیورٹی ایجنسیوں نے تنظیم کے شعبہ نشر و اشاعت اور پروپیگنڈا چیف سلطان عزیز اعظم کو گرفتار کیا تھا، جس سے اس تنظیم کے میڈیا اور بھرتی کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا۔

ان کارروائیوں سے ان الزامات کا نفی ہوتی ہے کہ جنگجو رہنماؤں کو سرحد پار مبینہ پناہ گاہیں حاصل ہیں، کیونکہ پاکستان کی سرحد کے اندر موجود عناصر کے خلاف بلا تفریق انٹیلی جنس آپریشنز جاری ہیں۔

عالمی اتفاقِ رائے:

امریکہ کی جانب سے پیش کردہ یہ انعام صرف قانونی کارروائی تک محدود نہیں بلکہ اس بات کا عکاس ہے کہ عالمی برادری اب بھی افغانستان کو علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھتی ہے۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

تاریخی حقائق بمقابلہ بے بنیاد دعوے: مشرف حسین سید کا اسامہ بن لادن سے متعلق بیان

سینئر سیاستدان مشرف حسین سید کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تربیت کی تھی۔” تاہم، تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ مختلف ادوار اور نیٹ ورکس کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ بناتا ہے جس کی کوئی تاریخی تصدیق نہیں ہوتی。

Read More »

آپریشن ردالفتنہ 3: کیچ مزابند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک

خبر کدا ویب ڈیکس: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔ ضلع کیچ کے علاقے مزابند رینج میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے ایک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے۔

Read More »

ایک ہی سٹیج، ایک ہی سکرپٹ: جنیوا میں پی ٹی ایم اور بی این ایم کا اتحاد بے نقاب

خبر کدا ویب ڈیکس: بین الاقوامی فورمز پر سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے ریاست مخالف عناصر کے درمیان گہرے روابط کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

Read More »