
(ویب ڈیسک)امریکا نے کالعدم تنظیم داعش خراسان (ISKP) کے سینئر رہنماؤں اور مالیاتی آپریٹو کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے 10 ملین (ایک کروڑ) ڈالر تک کا انعام کا اعلان کیا ہے۔ اس قدم نے ایک بار پھر افغانستان سے کام کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی پر عالمی تشویش کو اجاگر کر دیا ہے۔
امریکی ریوارڈز فار جسٹس پروگرام کی اقدام:
امریکی وزارتِ خارجہ کے ‘ریوارڈز فار جسٹس’ پروگرام کے تحت داعش خراسان کے امیر ثناء اللہ غفاری (المعروف شہاب المہاجر) اور اہم مالیاتی آپریٹو عبید اللہ (المعروف صلاح الدین یا مولوی رجب) کے بارے میں معلومات دینے پر اس بھاری انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ عالمی مبصرین اس اقدام کو افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر واشنگٹن کے شدید تحفظات کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کا موقف اور دوعہ معاہدہ:
یہ پیش رفت اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم (UNMT) کی ان حالیہ رپورٹوں کے عین مطابق ہے جس میں متنبہ کیا گیا تھا کہ طالبان حکومت کی جانب سے افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کے تمام تر دعوؤں کے باوجود داعش خراسان اب بھی افغانستان میں فعال اور ایک فعال کمانڈ سٹرکچر رکھتی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، اس تنظیم کے عناصر نے اب شمالی افغانستان میں توجہ مرکوز کرنا شروع کر دی ہے۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان انسدادِ دہشت گردی تعاون:
انعامی رقم کے اس اعلانیے نے دہشت گردی کے خلاف پاک-امریکا انٹیلی جنس تعاون کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا ہے۔
- محمد شریف اللہ کی گرفتاری (2025): پاک سیکیورٹی اداروں نے 2025 میں داعش خراسان کے آپریٹو محمد شریف اللہ کو گرفتار کر کے امریکی حکام کے حوالے کیا تھا، جو کابل کے ایبی گیٹ (Abbey Gate) بم دھماکے میں ملوث تھا۔
- سلطان عزیز اعظم کی گرفتاری (2025): اسی سال سیکیورٹی ایجنسیوں نے تنظیم کے شعبہ نشر و اشاعت اور پروپیگنڈا چیف سلطان عزیز اعظم کو گرفتار کیا تھا، جس سے اس تنظیم کے میڈیا اور بھرتی کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا۔
ان کارروائیوں سے ان الزامات کا نفی ہوتی ہے کہ جنگجو رہنماؤں کو سرحد پار مبینہ پناہ گاہیں حاصل ہیں، کیونکہ پاکستان کی سرحد کے اندر موجود عناصر کے خلاف بلا تفریق انٹیلی جنس آپریشنز جاری ہیں۔
عالمی اتفاقِ رائے:
امریکہ کی جانب سے پیش کردہ یہ انعام صرف قانونی کارروائی تک محدود نہیں بلکہ اس بات کا عکاس ہے کہ عالمی برادری اب بھی افغانستان کو علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھتی ہے۔



