وزارتِ ریلوے نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ریلوے کی مال بردار اور مسافری خدمات کو مزید وسعت دینے کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد صوبوں کے درمیان سفری و تجارتی رابطے بہتر بنانا، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور عوام کو سستی سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔

وزارتِ ریلوے کے مطابق پشاور ریلوے ڈویژن کے ازاخیل میں جدید ڈرائی پورٹ قائم کیا گیا ہے، جو پشاور اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان بڑی مقدار میں سامان کی ترسیل میں معاون ہوگا۔
ریلوے کی بریک وین اور لگیج وینز کے ذریعے کسانوں اور چھوٹے تاجروں کو سبزیاں، پھل، دودھ اور دیگر اشیا کم لاگت میں ملک کی مختلف منڈیوں تک پہنچانے کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
بلوچستان سے مال بردار ٹرینوں کی باقاعدہ سروس
حکام کے مطابق بلوچستان سے مال بردار ٹرینوں کی باقاعدہ خدمات جاری ہیں، جن کے ذریعے معدنیات، مویشیوں کی خوراک اور زرعی مصنوعات کراچی سمیت ملک کے دیگر بڑے تجارتی مراکز تک پہنچائی جا رہی ہیں۔
مسافروں کے لیے بھی ریلوے اسٹیشنز، ڈیجیٹل ٹکٹنگ، شکایات کے ازالے کے نظام اور ٹرینوں میں دستیاب سہولیات کو بہتر بنایا جا رہا ہے، تاکہ سفر کو زیادہ محفوظ، آرام دہ اور کم خرچ بنایا جاسکے۔
کوئٹہ سے 2، پشاور سے 4 میل/ایکسپریس ٹرینیں
اس وقت پشاور سے چار میل/ایکسپریس ٹرینیں ملک کے مختلف علاقوں سے رابطہ فراہم کر رہی ہیں، جبکہ کوئٹہ سے دو میل/ایکسپریس ٹرینیں بلوچستان کو پشاور اور کراچی سے منسلک کر رہی ہیں۔
وزارتِ ریلوے نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مزید مسافر ٹرینیں متعارف کرانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
پاکستان ریلوے کا مارکیٹ شیئر 30 فیصد کرنے کا ہدف
وزارتِ ریلوے کے مطابق پاکستان ریلوے کا مارکیٹ شیئر موجودہ 8 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس مقصد کے لیے چار نکاتی حکمتِ عملی پر کام جاری ہے، جس میں مالی استحکام، بہتر گورننس و ترقی، نجی شعبے کی شمولیت اور ٹیکنالوجی و جدت شامل ہیں۔
وزارت کے مطابق اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان ریلوے نے مالی سال 2024-25 میں ریکارڈ 94 ارب روپے آمدن حاصل کی، جو ادارے کی تاریخ کی بلند ترین آمدن قرار دی گئی ہے۔
ریلوے کا نیٹ ورک بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مزید فعال ہونے سے نہ صرف مسافروں کے لیے سفری سہولیات بہتر ہونے کی توقع ہے بلکہ تجارت، زراعت، معدنیات اور بین الصوبائی معاشی رابطوں کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔