بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ریلوے کا نیٹ ورک وسیع کرنے کا فیصلہ، مال بردار اور مسافر خدمات میں اضافہ

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

وزارتِ ریلوے نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ریلوے کی مال بردار اور مسافری خدمات کو مزید وسعت دینے کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد صوبوں کے درمیان سفری و تجارتی رابطے بہتر بنانا، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور عوام کو سستی سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔

وزارتِ ریلوے کے مطابق پشاور ریلوے ڈویژن کے ازاخیل میں جدید ڈرائی پورٹ قائم کیا گیا ہے، جو پشاور اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان بڑی مقدار میں سامان کی ترسیل میں معاون ہوگا۔

ریلوے کی بریک وین اور لگیج وینز کے ذریعے کسانوں اور چھوٹے تاجروں کو سبزیاں، پھل، دودھ اور دیگر اشیا کم لاگت میں ملک کی مختلف منڈیوں تک پہنچانے کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

بلوچستان سے مال بردار ٹرینوں کی باقاعدہ سروس

حکام کے مطابق بلوچستان سے مال بردار ٹرینوں کی باقاعدہ خدمات جاری ہیں، جن کے ذریعے معدنیات، مویشیوں کی خوراک اور زرعی مصنوعات کراچی سمیت ملک کے دیگر بڑے تجارتی مراکز تک پہنچائی جا رہی ہیں۔

مسافروں کے لیے بھی ریلوے اسٹیشنز، ڈیجیٹل ٹکٹنگ، شکایات کے ازالے کے نظام اور ٹرینوں میں دستیاب سہولیات کو بہتر بنایا جا رہا ہے، تاکہ سفر کو زیادہ محفوظ، آرام دہ اور کم خرچ بنایا جاسکے۔

کوئٹہ سے 2، پشاور سے 4 میل/ایکسپریس ٹرینیں

اس وقت پشاور سے چار میل/ایکسپریس ٹرینیں ملک کے مختلف علاقوں سے رابطہ فراہم کر رہی ہیں، جبکہ کوئٹہ سے دو میل/ایکسپریس ٹرینیں بلوچستان کو پشاور اور کراچی سے منسلک کر رہی ہیں۔

وزارتِ ریلوے نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مزید مسافر ٹرینیں متعارف کرانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

پاکستان ریلوے کا مارکیٹ شیئر 30 فیصد کرنے کا ہدف

وزارتِ ریلوے کے مطابق پاکستان ریلوے کا مارکیٹ شیئر موجودہ 8 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اس مقصد کے لیے چار نکاتی حکمتِ عملی پر کام جاری ہے، جس میں مالی استحکام، بہتر گورننس و ترقی، نجی شعبے کی شمولیت اور ٹیکنالوجی و جدت شامل ہیں۔

وزارت کے مطابق اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان ریلوے نے مالی سال 2024-25 میں ریکارڈ 94 ارب روپے آمدن حاصل کی، جو ادارے کی تاریخ کی بلند ترین آمدن قرار دی گئی ہے۔

ریلوے کا نیٹ ورک بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مزید فعال ہونے سے نہ صرف مسافروں کے لیے سفری سہولیات بہتر ہونے کی توقع ہے بلکہ تجارت، زراعت، معدنیات اور بین الصوبائی معاشی رابطوں کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

تاریخی حقائق بمقابلہ بے بنیاد دعوے: مشرف حسین سید کا اسامہ بن لادن سے متعلق بیان

سینئر سیاستدان مشرف حسین سید کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تربیت کی تھی۔” تاہم، تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ مختلف ادوار اور نیٹ ورکس کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ بناتا ہے جس کی کوئی تاریخی تصدیق نہیں ہوتی。

Read More »

آپریشن ردالفتنہ 3: کیچ مزابند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک

خبر کدا ویب ڈیکس: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔ ضلع کیچ کے علاقے مزابند رینج میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے ایک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے۔

Read More »

ایک ہی سٹیج، ایک ہی سکرپٹ: جنیوا میں پی ٹی ایم اور بی این ایم کا اتحاد بے نقاب

خبر کدا ویب ڈیکس: بین الاقوامی فورمز پر سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے ریاست مخالف عناصر کے درمیان گہرے روابط کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

Read More »