3-NOV-2026

خبرکدا ویب ڈیکس: قومی امن کمیٹی نے کوئٹہ میں علمائے کرام اور صوبائی نمائندوں کے ساتھ اہم مشاورت کے بعد بلوچستان میں کالعدم اور دہشت گرد گروہوں کی جانب سے خواتین کی بھرتی، بلیک میلنگ اور ان کے استحصال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کمیٹی کے اجلاس کے دوران مختلف مکاتبِ فکر کے علمائے کرام اور صوبائی نمائندوں نے صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال اور دہشت گرد عناصر کی جانب سے اپنائے گئے غیر اخلاقی اور غیر اسلامی ہتھکنڈوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اجلاس کے اہم نکات اور اعلامیہ:
- خواتین کا استحصال اور بلیک میلنگ: قومی امن کمیٹی نے اس بات پر شدید تشویش ظاہر کی کہ دہشت گرد گروہ اپنے شوم مقاصد کے لیے بلوچ خواتین کو ورغلا کر، بلیک میل کر کے اور ان کا استحصال کر کے دہشت گردانہ کارروائیوں اور آپریشنز میں استعمال کر رہے ہیں، جو بلوچ روایات اور اسلامی اقدار کے بالکل منافی ہے۔
- حقوق کے نام پر قومی انفراسٹرکچر پر حملوں پر سوالات: کمیٹی نے دہشت گرد گروہوں کے بیانیے کو رد کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بلوچستان کے حقوق کی بحالی کے نام پر سڑکوں، پلوں، سکولوں اور تعلیمی اداروں جیسے عوامی و قومی اثاثوں کو تباہ کرنا آخر کون سی حقوق کی جنگ ہے؟ ان حملوں سے صرف عام بلوچ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
- والدین کو بچوں کی تربیت پر توجہ دینے کی ہدایت: علمائے کرام نے تمام والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیمی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں دہشت گرد تنظیموں کی ورغلانے والی سازشوں اور گمراہ کن نیٹ ورکس سے محفوظ رکھیں۔
- آئینی حد میں مذاکرات کی حمایت: علماء اور کمیٹی اراکین نے واضح کیا کہ بلوچستان کے تمام درپیش مسائل کا حل تشدد اور تخریب کاری میں نہیں بلکہ آئینِ پاکستان کے دائرہ کار کے اندر رہ کر پرامن مذاکرات اور باہمی گفت و شنید میں مضمر ہے۔
قومی امن کمیٹی کے رہنماؤں نے عزم کا اظہار کیا کہ وہ صوبے میں پائیدار امن، بھائی چارے اور معاشی ترقی کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔




