
ویب ڈیکس: افغان ذرائع ابلاغ کے آؤٹ لیٹ ‘المرصاد’ کی جانب سے طالبان انتظامیہ کو ایک ذمہ دار نظام کے طور پر پیش کرنے اور خطے میں استحکام کے دعوؤں کو عالمی اور سفارتی سطح پر شدید تحفظات کا سامنا ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم (UNMT) کی اگست 2026 کی رپورٹ نے المرصاد کے تمام جھوٹے بیانیے کی قلعی کھول دی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے رپورٹ کے بنیادی نکات اور حقائق:
- دہشت گرد تنظیمیوں کی پناہ گاہ: UNMT کی اگست 2026 کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد گروپس بشمول ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش (ISKP)، ای ٹی آئی ایم اور ٹی آئی پی نہ صرف موجود ہیں بلکہ انہیں افغان سر زمین پر مکمل آزادی اور سہولت کاری حاصل ہے۔
- المرصاد کے دعوؤں کی نفی: اقوامِ متحدہ کے مانیٹرنگ پینل کے کسی بھی رکن ملک نے افغان حکام کے اس دعوے کی تائید نہیں کی کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہ موجود نہیں ہیں، بلکہ رپورٹ میں واضح طور پر ریکارڈ کیا گیا ہے کہ القاعدہ کو موجودہ افغان انتظامیہ کی سرپرستی حاصل ہے۔
- حقیقی خودمختاری اور ذمہ داری: پاکستان نے واضح کیا ہے کہ خودمختاری کا مطلب صرف حق جتانا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ اپنی زمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ اسے اس بات سے غرض نہیں کہ کابل میں حکومت کون چلا رہا ہے، بلکہ بنیادی تحفظہ یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔
- نیابتی جنگ کا منفی تاثر: المرصاد کی جانب سے پاکستان کے دفاعی اقدامات کو “پروکسی وار” قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔ واشنگٹن سمیت عالمی دارالحکومتوں نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان پر مسلسل حملے ہی دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی کی اصل وجہ ہیں۔
- اندرونی حکمرانی اور انسانی بحران: اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن (UNAMA) کی مارچ 2026 کی رپورٹ کے مطابق افغان انتظامیہ کی ناکام پالیسیوں اور عام افغان شہریوں تک انسانی امداد کی رسائی میں رکاوٹ ڈالنے کے باعث ملک میں انسانی بحران شدید تر ہو رہا ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق کابل کو دوسروں پر الزام تراشی اور المرصاد جیسے آؤٹ لیٹس کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے کے بجائے اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کرنا ہوگا تاکہ خطے میں واقعی پائیدار امن قائم ہو سکے۔



