
خبر کدا ویب ڈیسک: ریڈیو فری یورپ (RFE/RL)، دی واشنگتن ٹائمز اور اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم (UNMT) کی حالیہ رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت کی مبینہ سرپرستی میں افغانستان بدستور القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (TTP)، اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی دباؤ کے باوجود کابل کا موجودہ نظام کالعدم ٹی ٹی پی، القاعدہ، القاعدہ برصغیر (AQIS) اور ترکستان اسلامی پارٹی (ETIM) جیسی تنظیموں کو درگزر کر رہا ہے، جس سے خطے بالخصوص پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
القاعدہ اور ٹی ٹی پی گٹھ جوڑ
رپورٹس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ القاعدہ نہ صرف ٹی ٹی پی کو بڑھاوا دے رہی ہے بلکہ ان کے درمیان تعاون میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس بات کی توثیق اگست میں جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی 38ویں رپورٹ میں بھی کی گئی ہے، جس میں دونوں تنظیموں کے مابین گہرے ہوتے ہوئے گٹھ جوڑ کے واضع شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، القاعدہ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (IMU) اور کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے درمیان روابط بھی سامنے آئے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ بی ایل اے کے خلاف واضح شواہد کے باوجود اسے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل نہ کیا جانا عالمی سطح پر اس خطرے کو تسلیم کرنے میں ایک نمایاں خلا کو ظاہر کرتا ہے۔
علاقائی سلامتی اور معاشی منصوبوں کو خطرہ
افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی بڑھتی ہوئی یہ ملی بھگت نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ اس خطے میں جاری تمام اہم اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے ترقیاتی منصوبوں اور سرمایہ کاروں کے لیے بھی ایک بڑا سکیورٹی رسک بن چکی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کی بھاری قیمت چکاتا آ رہا ہے، اور پاکستانی سرحد کے اندر ہونے والے متعدد حملوں کے تانے بانے افغانستان میں موجود نیٹ ورکس سے ملتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سرحد پار کارروائیاں دراصل انہی دہشت گردانہ خطرات کو روکنے کے لیے ایک ناگزیر جوابی عمل کی حیثیت رکھتی ہیں جنہیں جامع انسداد دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
پراپیگنڈا اور بیانیے کی جنگ
رپورٹس میں یہ اہم نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس اب فکری اور معلوماتی محاذ پر بھی سرگرم ہیں۔ القاعدہ سے وابستہ عناصر ٹی ٹی پی کے پروپیگنڈے کو تشکیل دینے میں مدد فراہم کر رہے ہیں اور پاکستان کے خلاف ان کی کارروائیوں کو ایک وسیع تر بین الاقوامی اور مذہبی بیانیے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے لیے سازگار ماحول پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس اور زمینی حقائق اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری افغانستان میں عسکریت پسندوں کی موجودگی، مالی معاونت اور انفراسٹرکچر کا نوٹس لے تاکہ علاقائی امن و سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔



