
چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی محکموں کی کارکردگی، سالانہ اہداف میں پیشرفت اور صوبائی حکومت کی مستقبل کی ترجیحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کی اہم تفصیلات اور شرکاء
- شریک محکمے: اجلاس میں پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ (P&D)، زراعت، کالجز، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE)، آبپاشی، لوکل گورنمنٹ، ماہی گیری، اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے سیکریٹریز نے شرکت کی۔
- محکماتی بریفنگ: مختلف محکموں کے سیکریٹریز نے اپنے متعلقہ شعبوں کی کارکردگی، سالانہ اہداف کے حصول، اہم کامیابیوں، درپیش چیلنجز اور مستقبل کی حکمتِ عملیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
چیف سیکریٹری شکیل قادر خان کی اہم ہدایات
- عوامی ریلیف اور نتائج پر مبنی گورننس: چیف سیکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں کا بنیادی مقصد عوام کو بر وقت اور عملی ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی کارکردگی کو عام آدمی تک خدمات کی بہتری سے جوڑیں۔
- شفافیت اور وسائل کا درست استعمال: انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی (Monitoring) اور دستیاب عمومی وسائل کے شفاف و بہترین استعمال کو یقینی بنانے کا حکم دیا۔
- گڈ گورننس اور ڈسپلن: شکیل قادر خان نے واضح کیا کہ گڈ گورننس، شفافیت، میرٹ، ادارہ جاتی ڈسپلن اور عوامی خدمت صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
- بہتر بین المحکماتی رابطہ: انہوں نے تمام اداروں کو باہمی رابطے اور مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے چیلنجز پر قابو پانے کی ہدایت کی تاکہ حکومتی اقدامات کے فوائد براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔
- قابلِ پیمائش اہداف: تمام سیکریٹریز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے محکموں کے لیے قابلِ پیمائش اہداف (Measurable Targets) مقرر کریں، باقاعدگی سے پیشرفت کا جائزہ لیں اور جہاں کہیں رکاوٹیں یا تاخیر نظر آئے، فوری اصلاحی اقدامات کریں۔
چیف سیکریٹری نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ کارکردگی، جوابدہی (Accountability) اور مفادِ عامہ کو صوبائی حکومت کے انتظامی امور میں مرکزی حیثیت حاصل رہے گی۔



