
نیوزڈیسک: پشین کے علاقے سراناں میں بلوچستان لیریشن آرمی (BLA) کے ہاتھوں اغوا کے بعد قتل کیے جانے والے عارفوالا کے پانچوں فروٹ ٹریڈرز (پھل فروشوں) کی شناخت کر لی گئی ہے۔ یہ افراد روزگار کے سلسلے میں بلوچستان آئے تھے۔
پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق، پانچوں افراد چند روز قبل اپنے ٹرکوں پر انگور خریدنے کے لیے بلوچستان گئے تھے۔ یہ معمول کا تجارتی سفر اس وقت المیے میں بدل گیا جب تاجروں کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا، اور بعد میں ان کی لاشیں سراناں کے علاقے سے برآمد ہوئیں۔
شناخت ہونے والے افراد:
- محمد اشرف
- زمان
- علی احمد
اس دلخراش واقعے پر حکومتِ بلوچستان نے شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معےوم شہریوں کے قاتلوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب سیکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کی تلاش اور واقعے کی تحقیقات کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات: سراناں کا علاقہ حالیہ دنوں میں پے در پے پُرتشدد واقعات کی زد میں رہا ہے۔ اس سے قبل 24 اگست کو بھی سڑک کی تعمیر کے منصوبے پر کام کرنے والے پنجاب کے پانچ مزدوروں کو ہلاک اور ایک کو زخمی کر دیا گیا تھا، جبکہ مشینری کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ نوشکی میں بھی سندھ سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کو نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
اس نوعیت کے پُرتشدد واقعات نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں بلکہ بلوچستان کی معیشت، تجارت اور باہر سے روزگار کی غرض سے آنے والے محنت کشوں کے لیے بھی شدید خوف و ہراس کا سبب بن رہے ہیں۔ انتظامیہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے جبکہ لواحقین اپنے پیاروں کی لاشیں لے کر سوگوار ہیں۔



