
بلوچستان کابینہ نے بدھ کے روز گوادر میں ترکمانستان کی سرمایہ کاری سے 14 ارب ڈالر مالیت کے سہ فریقی گیس ٹرمینل کی تعمیر کی منظوری دے دی اور بورڈ آف ریونیو کے سینئر رکن کو ہدایت کی کہ منصوبے میں صوبے کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزرا میر ظہور بلیدی اور میر ضیاء اللہ لانگو نے بتایا کہ مجوزہ ٹرمینل کے ذریعے گوادر، پنجگور، چاغی اور واشک کے اضلاع کو بھی قدرتی گیس فراہم کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں ہونے والے اجلاس کا آغاز حالیہ دہشت گرد حملوں میں شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے لیے دعا سے کیا گیا۔
میر ظہور بلیدی نے بتایا کہ کابینہ نے 26 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا اور دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان کی سرزمین پر دہشت گرد تنظیموں کو کام کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
کابینہ نے عوامی فلاح و بہبود، امن و امان کے قیام، تعلیمی مواقع میں اضافے، مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور صوبے میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کے لیے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی۔
ورکرز ویلفیئر بورڈ اسکالرشپ پروگرام کے تیسرے مرحلے کے تحت 300 بچوں کے لیے وظائف کی منظوری دی گئی، جبکہ حکام کے مطابق اب تک 781 بچے اس منصوبے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
کابینہ نے 2021 میں شروع کیے گئے جنوبی بلوچستان پیکیج کے تحت سات منصوبوں کی سیکیورٹی کے لیے 85 کروڑ 80 لاکھ روپے جاری کرنے کی بھی منظوری دی۔
اس کے علاوہ تعمیرِ نو کالج کو جامعہ (یونیورسٹی) کا درجہ دینے، بچوں کے تحفظ کے لیے ہیلپ لائن قائم کرنے، بلوچستان چائلڈ پروٹیکشن رولز 2026، بلوچستان کیڈٹ کالجز ایکٹ میں ترامیم اور کوئٹہ سیف سٹی منصوبے کے سروس معاہدے کی تجدید کی منظوری بھی دی گئی۔
میر ظہور بلیدی کے مطابق، کابینہ نے 19 ارب روپے لاگت کے سبی۔ہرنائی روڈ منصوبے کی بھی منظوری دی، جس کے اخراجات وفاقی اور صوبائی حکومتیں 80:20 کے تناسب سے برداشت کریں گی۔ اس منصوبے میں وفاقی حکومت 15 ارب روپے سے زائد جبکہ صوبائی حکومت 3 ارب روپے سے زیادہ فراہم کرے گی۔
حکومت نے پارکو کوسٹل ریفائنری منصوبے کے لیے عدم اعتراض کے سرٹیفکیٹ (این او سی) کی تجدید بھی کی، تاہم اس کے لیے موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق اراضی کی قیمت کی ادائیگی اور دو سال کے اندر سرمایہ کاری کی شرط رکھی گئی۔
کابینہ نے گوادر کے علاقوں کلانچ اور نیو ٹاؤن کے رہائشیوں کو ملکیتی حقوق دینے، کندھ کوٹ اور منجوٹی تحصیلوں اور کندھ کوٹ سب ڈویژن کے قیام اور مزئی اور موسیٰ زئی کو میونسپل کمیٹیوں کا درجہ دینے کی بھی منظوری دی۔
وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بتایا کہ سیف سٹی منصوبے کے خراب کیمرے 10 دن کے اندر بحال کر دیے جائیں گے اور پٹیل روڈ دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چاغی میں جلنے والے تیل بردار ٹینکرز نے حکومتی ضابطہ کار کی خلاف ورزی کی تھی اور وہ سرکاری قافلے کا حصہ نہیں تھے۔
کابینہ نے لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد پورے صوبے کو باضابطہ طور پر پولیس ایریا قرار دے دیا۔
اس کے علاوہ ایس پی نبیل احمد کو بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کا چیف آپریٹنگ آفیسر مقرر کرنے، محکمہ داخلہ کی سفارش پر پیرول بورڈ قائم کرنے اور حب کے ماربل سٹی میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے ایک نئے تھانے کے قیام کی منظوری بھی دی گئی۔