Balochistan Has Become a Nightmare for the Pakistani Army

کے عنوان سے شائع ہونے والا مضمون یک طرفہ مؤقف پیش کرتا ہے اور زمینی حقائق کے بجائے علیحدگی پسند گروہوں کے بیانیے کو فروغ دیتا ہے۔ اگر حقائق کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو صورتِ حال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور مختلف نظر آتی ہے۔
ریاستی عمل داری کا غلط تاثر
مضمون میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ بلوچستان کے وسیع علاقے ریاست کے کنٹرول سے باہر ہو چکے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صوبے بھر میں سرکاری ادارے، عدالتیں، تعلیمی ادارے، ہسپتال، شاہراہیں اور ترقیاتی منصوبے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق بی ایل اے جیسی دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے حملے کرنا اور کسی علاقے پر مستقل کنٹرول قائم رکھنا دو الگ چیزیں ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہے ہیں، جن کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کیا جا چکا ہے۔
بی ایل اے کی دہشت گردی کے شکار شہریوں کو نظر انداز کرنا
مذکورہ مضمون میں بی ایل اے کو “مزاحمت کار” قرار دیا گیا ہے، لیکن ان حملوں میں نشانہ بننے والے عام شہریوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ ان حملوں میں متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں:
- اساتذہ اور طلبہ
- مزدور اور انجینئر
- مسافر بسوں کے مسافر
- سرکاری ملازمین
- ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے کارکن
ماہرین کے مطابق Times of Israel کا ان واقعات کو نظر انداز کرنا اور بی ایل اے جیسی دہشت گرد تنظیم کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کرنا اسرائیل کا دہشت گردی کی حمایت کے مترادف ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کو نظر انداز کرنا
مضمون میں بلوچستان کے قدرتی وسائل کے حوالے سے متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں، لیکن صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ان منصوبوں میں شامل ہیں:
- گوادر بندرگاہ کی ترقی
- ریکوڈک منصوبہ
- شاہراہوں اور مواصلاتی نظام کی بہتری
- تعلیمی وظائف
- روزگار کے نئے مواقع
- صحت اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ان منصوبوں کے ذریعے مقامی آبادی کو روزگار اور معاشی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
پوری آبادی کی نمائندگی کا دعویٰ
مضمون میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ بلوچستان کی پوری آبادی علیحدگی پسند نظریات کی حامی ہے، حالانکہ بلوچستان مختلف قبائل، زبانوں، ثقافتوں اور سیاسی نظریات پر مشتمل ایک متنوع خطہ ہے۔
لاکھوں بلوچ شہری جمہوری عمل، تعلیم، تجارت اور سماجی سرگرمیوں میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں اور تشدد کے بجائے سیاسی اور آئینی راستے کو ترجیح دیتے ہیں۔
تشدد کو نظریاتی رنگ دینا
تجزیہ کاروں کے مطابق مضمون میں مسلح کارروائیوں کو رومانوی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ بم دھماکوں، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور عام شہریوں پر حملوں کے نتائج کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
نتیجہ
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسرائیل اور بھارت مکمل طور پر ایک دہشت گرد ریاستیں ہیں اور اب پاکستان کو ان کا ایک ساتھ مقابلہ کرنا ہو گا۔ ریاست پاکستان کے نئے وِژَن “روشن مستقبل” کے مطابق امن، تعلیم، ترقی، اور معاشی استحکام ہی بلوچستان کا مستقبل ہے۔ کوئی بھی پروپیگنڈا زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتا، اور بلوچستان کی ترقی اور استحکام کے لیے ریاستی اداروں کی کوششیں جاری رہیں گی۔
