بلوچستان کے مسائل اور سیاسی مفاد پرستی

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

بلوچستان کئی دہائیوں سے امن و امان، معاشی پسماندگی، دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام جیسے پیچیدہ مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں عوام کی توقع ہوتی ہے کہ سیاسی قیادت ذمہ داری، تدبر اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرے تاکہ مسائل کے پائیدار حل کی راہ ہموار ہو۔ تاہم جب قومی یا صوبائی بحرانوں کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔

حالیہ سیاسی صورتحال میں یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ بعض سیاسی رہنما، جن میں اختر مینگل، محمود خان اچکزئی اور لشکری رئیسانی شامل ہیں، حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات اور مفاہمت کی کوششوں کے بجائے ایسے بیانات اور طرزِ عمل اختیار کر رہے ہیں جن سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر سیاسی قیادت کا اصل مقصد عوام کے مسائل کا حل ہوتا تو وہ مذاکرات، آئینی راستوں اور سیاسی استحکام کو ترجیح دیتی۔

یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ جب یہ رہنما مختلف ادوار میں اقتدار، وزارتوں یا حکومتی اتحاد کا حصہ رہے تو انہوں نے بلوچستان کے بنیادی مسائل، جیسے تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر، پانی کی قلت اور عوامی فلاح کے لیے کون سے دیرپا اقدامات کیے؟ اگر ان مسائل کے حل کے لیے مؤثر منصوبہ بندی اسی وقت کی جاتی تو شاید آج صوبہ کئی مشکلات سے محفوظ ہوتا۔

اسی طرح دہشت گردی کے واقعات، خصوصاً زیارت (منگی ڈیم) حملے جیسے سانحات، میں پولیس اہلکاروں اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ایسے مواقع پر عوام توقع رکھتے ہیں کہ تمام سیاسی رہنما بلاامتیاز شہداء کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کریں، دہشت گردی کی واضح الفاظ میں مذمت کریں اور ہر قسم کی مسلح کارروائی کو مسترد کریں۔ قومی سانحات پر خاموشی یا غیر واضح مؤقف سیاسی قیادت پر مزید سوالات کھڑے کرتا ہے۔

بلوچستان کے عوام کو جذباتی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ احتجاج ہر جمہوری معاشرے میں ایک آئینی حق ہے، لیکن اگر احتجاج کو سیاسی مفادات، پوائنٹ اسکورنگ یا اقتدار کے حصول کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے مسائل کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ عوام کے دکھ، غم اور مشکلات کسی بھی سیاسی جماعت یا شخصیت کے لیے سیاسی سرمایہ نہیں بننے چاہئیں۔

آج بلوچستان کو ایسی قیادت درکار ہے جو نفرت اور تقسیم کے بجائے مکالمے، ترقی، تعلیم، سرمایہ کاری اور امن کے فروغ کو اپنی ترجیح بنائے۔ عوام کو ایسے نمائندوں کی ضرورت ہے جو ہر دہشت گردی کے واقعے کی بلاامتیاز مذمت کریں، ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد سازی میں کردار ادا کریں اور صوبے کے نوجوانوں کے لیے بہتر مستقبل کی راہ ہموار کریں۔

بلوچستان کا روشن مستقبل صرف اسی صورت ممکن ہے جب سیاسی اختلافات کو آئینی دائرے میں رکھتے ہوئے عوامی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بحرانوں سے فائدہ اٹھانے والی سیاست وقتی توجہ تو حاصل کر سکتی ہے، لیکن پائیدار امن، ترقی اور استحکام صرف ذمہ دارانہ قیادت، مؤثر حکمرانی اور عوامی خدمت کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

تاریخی حقائق بمقابلہ بے بنیاد دعوے: مشرف حسین سید کا اسامہ بن لادن سے متعلق بیان

سینئر سیاستدان مشرف حسین سید کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تربیت کی تھی۔” تاہم، تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ مختلف ادوار اور نیٹ ورکس کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ بناتا ہے جس کی کوئی تاریخی تصدیق نہیں ہوتی。

Read More »

آپریشن ردالفتنہ 3: کیچ مزابند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک

خبر کدا ویب ڈیکس: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔ ضلع کیچ کے علاقے مزابند رینج میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے ایک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے۔

Read More »

ایک ہی سٹیج، ایک ہی سکرپٹ: جنیوا میں پی ٹی ایم اور بی این ایم کا اتحاد بے نقاب

خبر کدا ویب ڈیکس: بین الاقوامی فورمز پر سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے ریاست مخالف عناصر کے درمیان گہرے روابط کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

Read More »