
کسی بھی خطے کی معاشی ترقی اور خوشحالی کا بنیادی انحصار اس کے ٹرانسپورٹ کے نظام اور شاہراہوں پر ہوتا ہے۔ جب تک سامان، مصنوعات اور لوگوں کی نقل و حرکت آسان اور محفوظ نہیں ہوگی، تب تک سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع محض دستاویزات کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ بلوچستان کے معاملے میں یہ حقیقت اور بھی اہم ہو جاتی ہے، جہاں وسیع و عریض جغرافیہ، دشوار گزار راستے اور اضلاع کے درمیان فاصلے ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔
حال ہی میں صوبائی حکومت کی جانب سے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت 644 ارب 60 کروڑ روپے کی لاگت سے شاہراہوں کے 10 بڑے منصوبوں کو 2026 سے 2028 تک مکمل کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ این-25 (N-25)، ایم-8 (M-8) اور این-50 (N-50) جیسی مرکزی شاہراہوں کی بحالی اور کشادگی کی یہ دستاویزات کاغذ کی حد تک ایک روشن اور امید افزا تصویر پیش کرتی ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف اربوں روپے کا تخمینہ اور حتمی تاریخیں طے کر لینا بلوچستان کی محرومیوں اور سفری مشکلات کا حتمی حل ثابت ہو سکتا ہے؟
این-25: “خونی شاہراہ” سے بین الاقوامی تجارتی راہداری تک
کراچی، کوئٹہ اور چمن کو ملانے والی N-25 شاہراہ دہائیوں سے عوام کے لیے شدید سفری صعوبتوں اور خونی حادثات کا سبب بنی ہوئی ہے۔ خضدار تا کچلاک اور کراچی تا خضدار کے اہم حصوں کو دو رویہ (Dualization) بنانا محض ایک تعمیری منصوبہ نہیں، بلکہ یہ ہزاروں انسانی جانوں کی حفاظت کا ضامن بھی ہے۔
اگر خضدار تا کچلاک منصوبے پر 61 فیصد کام کی پیش رفت واقعی زمین پر دکھائی دیتی ہے اور دسمبر 2027 تک یہ مکمل ہو جاتا ہے، تو اس سے نہ صرف کوئٹہ اور کراچی کے درمیان سفر کا دورانیہ کم ہوگا بلکہ تجارتی مال برداری کی لاگت میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اسی طرح کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس کا 85 فیصد کام مکمل ہونا دارالحکومت کے اندر ٹریفک کے ازدحام کو کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
علاقائی رابطہ کاری اور بارڈر اکانومی
ایم-8 (M-8) کے آواران-نال اور ہوشاب-آواران سیکشنز کا قیام، جبکہ نوکنڈی-مشخیل روڈ کی دسمبر 2026 تک متوقع تکمیل، بلوچستان کے ان دور دراز علاقوں کو مرکزی معیشت سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی جو ماضی میں بالکل نظر انداز کر دیے گئے تھے۔
بلوچستان کی معیشت کا بڑا حصہ پاک-ایران اور پاک-افغان سرحد پار تجارت سے منسلک ہے۔ جب تک نوکنڈی، چمن، اور زاہدان کے راستوں کو اعلیٰ معیار کی شاہراہوں سے نہیں جوڑا جائے گا، تب تک مقامی تاجروں اور عام شہریوں کے حالات میں کوئی واضح تبدیلی نہیں آ سکتی۔
چیلنجز: سست روی، سیکیورٹی اور شفافیت
خبروں اور سرکاری دستاویزات کی حد تک یہ پروجیکٹس امید افزا نظر آتے ہیں، لیکن کئی پروجیکٹس پر کام کی سست رفتاری تشویشناک ہے۔ مثال کے طور پر، این-50 (N-50) کے یارک-ساگو-ژوب سیکشن کی منظور شدہ لاگت 76.49 ارب روپے ہے، لیکن وہاں تعمیراتی پیش رفت اب بھی صرف 2 فیصد ہے۔
بلوچستان میں شاہراہوں کے منصوبوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمیشہ سے تین چیزیں رہی ہیں:
- فنڈز کی بر وقت اور بلا تعطل فراہمی
- سیکیورٹی کے چیلنجز اور ٹھیکیداروں کا کام چھوڑ کر جانا
- تعمیراتی معیار اور شفافیت کا فقدان
نتیجہ اور لائحہ عمل
بلوچستان میں 10 بڑی شاہراہوں کی تکمیل صرف ایک انتظامی یا بنیادی ڈھانچے کی کامیابی نہیں ہوگی، بلکہ یہ صوبے کے نوجوانوں کو روزگار، مقامی تاجروں کو منڈیاں اور مریضوں کو بروقت ہسپتال تک رسائی فراہم کرنے کا ذریعہ بنے گی۔
صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ان حتمی تاریخوں (2026 تا 2028) کو محض کاغذی ڈیڈ لائنز نہ رہنے دیں، بلکہ ایک مضبوط مانیٹرنگ میکانزم کے ذریعے ان تمام پروجیکٹس کی شفاف اور بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔ جب تک بلوچستان کی شاہراہیں محفوظ، کشادہ اور پختہ نہیں ہوں گی، تب تک “ڈیجیٹل بلوچستان” اور “معاشی ترقی” کے خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتے۔



