پاکستان بھر کی طرح بلوچستان میں بھی آج قومی یومِ اقلیت (Minorities’ Day) ملی جوش و جذبے اور احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد ملکی تعمیر و ترقی میں غیر مسلم برادریوں کے کلیدی کردار کو سراہنا اور مساوی حقوق، مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے عزم کو دہرانا ہے۔

11 اگست کی تاریخی اہمیت
- قائد اعظم کا تاریخی خطاب: یہ دن باباۓ قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے 11 اگست 1947 کے اس تاریخی خطاب کی یاد دلاتا ہے جس میں انہوں نے ریاست میں تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی، برابر کی شہریت اور رواداری کا ضامن قرار دیا تھا۔
- سرکاری آغاز: قومی یومِ اقلیت کا باقاعدہ آغاز 2009 میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دورِ حکومت میں کیا گیا تھا، جس کے بعد سے ہر سال 11 اگست کو یہ دن سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے۔
بلوچستان کی ترقی میں اقلیتوں کا کردار
بلوچستان میں مقیم ہندو، مسیحی، سکھ اور دیگر اقلیتی برادریاں صوبے کی معاشی، تعلیمی، اور سماجی پیش رفت میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔
- خدمات کا اعتراف: صوبے میں صحت، تعلیم، تجارت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں اقلیتی برادری کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔
- بین المذاہب ہم آہنگی: ان تقاریب کا مقصد صوبے میں بھائی چارے، برداشت اور باہمی احترام کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا پیغام
قومی یومِ اقلیت کی مناسبت سے صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا:
“پاکستان کی حقیقی ترقی اور خوشحالی کا راز انصاف، مساوات اور رواداری میں پوشیدہ ہے۔ اقلیتیں پاکستان کا برابر کا حصہ ہیں اور انہیں تمام آئینی حقوق کی فراہم ہماری اولین ترجیح ہے۔“
