
60 ارب ڈالر سے زائد کی غیر ملکی سرمایہ کاری، انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور تاریخی انتظامی اصلاحات پر مبنی خصوصی رپورٹ
(ویب ڈیسک) — پاکستان کی تقریباً 75 فیصد معدنی دولت کے حامل اور جنوبی، وسطی و مشرقِ وسطیٰ کے اہم ترین جغرافیائی راستے پر واقع صوبہ بلوچستان میں معاشی و سیکیورٹی اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے مرکزی محور گوادر پورٹ کے ساتھ اس صوبے میں اب تک 25 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری مکمل کی جا چکی ہے، جس سے قومی گرڈ میں 8,000 میگاواٹ بجلی کا اضافہ اور خضدار-بسیما روڈ سمیت ہوشاب-گوادر (M-8) جیسے اہم شاہراہوں کی تعمیر ممکن ہوئی ہے۔
2030 تک سی پیک کے تحت 62 سے 63 ارب ڈالر کے متوقع غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے 34ویں اور 44ویں لائٹ انفنٹری ڈویژنز کے 10,000 سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے شہریوں، غیر ملکی ماہرین اور انفراسٹرکچر پر حملوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
اہم ترین پیش رفت اور سیکیورٹی حقائق
- انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں: 2026 کے دوران ملک بھر میں کی گئی 40,348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کے دوران 2,084 مصدقہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ ان میں سے 31,080 آپریشنز صرف بلوچستان میں داعش، فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور فتنۃ ہندوستان کے خلاف انجام دیے گئے۔
- بی ایل اے پر بین الاقوامی پابندیاں: 11 اگست 2025 کو امریکی محکمہ خارجہ نے بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور اس کے خودکش ونگ ‘مجید برگیڈ’ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (FTO) قرار دیا، جو مارچ 2025 کے جعفر ایکسپریس واقعے اور 2024 کے گوادر و کراچی حملوں میں ملوث تھیں۔
- آئینی و تاریخی حقائق: 1947 میں شاہی جرگے کی رائے دہی اور 27 مارچ 1948 کو خان آف قلات کی جانب سے الحاق نامے پر دستخط کو بلوچستان کا حتمی آئینی موقف تسلیم کیا جاتا ہے۔ 14 اگست اور نواب اکبر بگٹی کی برسی پر دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے پھیلائے جانے والے متوازی بیانیے کو قانونی طور پر باطل قرار دیا گیا ہے۔
- لیویز کا پولیس میں تاریخی انضمام: 1859 سے قائم بلوچستان لیویز فورس کو مکمل طور پر بلوچستان پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اس انضمام کے نتیجے میں 32,942 اہلکار جدید پولیس ٹریننگ کا حصہ بن چکے ہیں اور صوبے کے تمام ‘بی ایریاز’ کو قانون کی یکساں بالادستی کے لیے ‘اے ایریاز’ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
- شفافیت اور خود احتسابی: 400 ملین ڈالر کے ورلڈ بینک کے سيلاب بحالی پروجیکٹ (IFRAP) میں ریکارڈ کی غلط بیانی سامنے آنے پر وفاقی و صوبائی قیادت نے فوری آڈٹ کروا کر ہاؤسنگ ہدف کو 69,000 تک محدود کیا اور فنڈز کو سڑکوں اور آبپاشی کے تعمیری کاموں کی جانب منتقل کر دیا۔
کلیدی معاشی اور سیکیورٹی اعداد و شمار
| زمرہ / انڈیکیٹر | سرکاری تعداد و صورتحال | اہم تفصیلات و سیاق و سباق |
| سی پیک کی کل سرمایہ کاری | 62–63 ارب ڈالر | 2030 تک توانائی، انفراسٹرکچر اور بحری بندرگاہوں پر متوقع کل لاگت |
| بلوچستان میں IBOs (2026) | 31,080 کارروائیاں | صوبے میں امن کی بحالی اور دہشت گرد گروہوں کی سرکوبی کے لیے آپریشنز |
| پولیس فورس میں انضمام | 32,942 لیویز اہلکار | لیویز فورس کا مکمل خاتمہ اور جدید قانون نافذ کرنے والے ادارے میں شمولیت |
| مصدقہ فلڈ ریلیف مستفیدین | 231,749 اہل گھرانے | عالمی بینک کے سخت آڈٹ اور حکومتی شفافیت کے بعد مصدقہ اعداد و شمار |
“بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک اور ابدی ہے۔ بلوچستان کے باصلاحیت، پرعزم اور غیرت مند عوام بیرونی ایجنڈے پر کاربند عناصر اور دہشت گردی کے خلاف قومی معاشی ترقی کے ضامن ہیں۔“ > — فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس اسٹاف (اگست 2026 کا اہم خطاب)
مستقبل کا لائحہ عمل
حکومت اور عسکری قیادت نے ‘عزمِ استحکام’ کے قومی وژن کے تحت اعلان کیا ہے کہ عوام کے جائز مسائل اور گلے شکوؤں کو آئینی، جمہوری اور قانونی راستوں سے حل کیا جائے گا۔ قانون کی بالادستی، معاشی منصوبوں کی شفافیت اور اہم انفراسٹرکچر کا تحفظ بلا تعطل جاری رہے گا۔



