بلوچستان کا انتظامی نقشہ تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک بڑا لیکن موجودہ وقت میں ضروری فیصلہ ہے۔ بلوچستان حکومتِ نے صوبے کی انتظامی تقسیم میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اب ڈویژنوں کی تعداد بڑھ کر 11 ہو گئی ہے، جبکہ اضلاع کی تعداد بڑھ کر 41 تک کر دی گئی ہیں۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو دو اضلاع میں تقسیم کر دیا گیا ہے، اور اب مشرقی کوئٹہ اور مغربی کوئٹہ الگ الگ اضلاع ہیں۔ یہ ایک اہم اقدام ہے۔ اس طرح کی تبدیلیاں آسان نہیں ہوتیں؛ ان کے لیے وقت، پیسہ اور محنت درکار ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ تبدیلی کی مزاحمت کرتے ہیں کیونکہ وہ انجانے حالات سے ڈرتے ہیں۔ تاہم، حکومت نے بالکل درست فیصلہ کیا ہے۔ بہتر طرزِ حکومت کے لیے یہ تنظیمِ نو ناگزیر ہے اور بلوچستان کے عوام کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔

بڑا سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی کیوں ضروری ہے؟ پہلی وجہ سادہ ہے؛ بلوچستان ایک وسیع صوبہ ہے اور رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اس کی آبادی مشکل ترین علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ پہاڑ، ریگستان اور طویل فاصلے سفر کو دشوار بنا دیتے ہیں۔ قریبی ضلع کے ہیڈکوارٹر تک پہنچنے میں گھنٹوں اور بعض اوقات دن لگ جاتے ہیں۔ اس سے عام شہریوں کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جب کوئی ضلع بہت بڑا ہو تو اسے سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انتظامیہ ہر گاؤں تک نہیں پہنچ پاتی، اور سرکاری افسران پر کام کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ہر مسئلے پر توجہ نہیں دے پاتے۔
ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ہوتی ہے اور شہریوں کی شکایات ان سنی رہ جاتی ہیں۔ یہ عوام کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔ وہ بہتر خدمات اور ایک ایسی حکومت کے حقدار ہیں جو ان کے قریب ہو۔ نئے اضلاع اور تحصیلیں بنا کر حکومت انتظامیہ کو عوام کے قریب لا رہی ہے اور یہ ایک اچھا اقدام ہے۔ چھوٹے اضلاع کا انتظام سنبھالنا آسان ہوتا ہے۔ افسران مقامی مسائل پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں، ہنگامی صورتحال میں تیزی سے جواب دے سکتے ہیں اور ترقیاتی کاموں کی زیادہ مؤثر طریقے سے نگرانی کر سکتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ چھوٹے انتظامی یونٹ بہتر طرزِ حکومت کا باعث بنتے ہیں۔
کوئٹہ ضلع کو تقسیم کرنے کا فیصلہ خاص طور پر اہم ہے۔ کوئٹہ صوبے کا سب سے بڑا شہر ہے جو گزشتہ برسوں میں تیزی سے پھیلا ہے اور اس کی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اس شہر کو ٹریفک، پانی کی قلت اور کچرے کے انتظام (ویسٹ مینجمنٹ) جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ اکیلی ایک ضلعی انتظامیہ ان تمام مسائل کو نہیں سنبھال سکتی۔ اب مشرقی کوئٹہ اور مغربی کوئٹہ کی اپنی اپنی انتظامیہ ہوگی اور ہر ایک کی اپنی توجہ ہوگی۔ اس سے مخصوص علاقوں کی ضرورت کے مطابق ترقی ممکن ہو سکے گی۔ ہو سکتا ہے کہ ایک طرف بہتر سڑکوں کی ضرورت ہو اور دوسری طرف پانی کی فراہمی کو بہتر بنانا مقصود ہو۔ مقامی انتظامیہ اب ان مخصوص ضروریات کو پورا کر سکتی ہے۔ وہ بہتر منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور تیزی سے کام کر سکتے ہیں۔ یہ ایک عملی اور دانشمندانہ فیصلہ ہے۔

ایک اور اہم تبدیلی نئی سب ڈویژنوں اور تحصیلوں کا قیام ہے۔ اورمارہ، جیونی اور باغبانہ جیسے دور دراز مقامات کے اب اپنے سب ڈویژن بن چکے ہیں۔ ماضی میں ان علاقوں کے لوگوں کو بنیادی خدمات کے حصول کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے تھے اور چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے بھی ضلع ہیڈکوارٹر جانا پڑتا تھا۔
یہ ان پر ایک بوجھ تھا جس سے ان کا وقت اور پیسہ دونوں ضائع ہوتے تھے۔ اب نئے انتظامی یونٹس کی بدولت ان لوگوں کو سرکاری دفاتر تک آسان رسائی حاصل ہوگی۔ وہ اپنے کاغذات کی تیاری و پروسیسنگ کروا سکیں گے، شکایات درج کرا سکیں گے اور سرکاری فوائد حاصل کر سکیں گے۔ یہی بہتر طرزِ حکومت کا اصل مقصد ہے۔ حکومت تک ہر ایک کی رسائی ہونی چاہیے اور اسے ایک دور دراز کی ہستی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تنظیمِ نو اسی چیز کو ممکن بناتی ہے۔ بلوچستان کو ماضی میں نظرانداز کیے جانے کی ایک تاریخ رہی ہے۔ بہت سی برادریوں نے خود کو الگ تھلگ محسوس کیا ہے اور انہیں لگا ہے کہ حکومت کو ان کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اس سے مایوسی پھیلی ہے اور بعض معاملات میں یہ تنازعات کا سبب بھی بنی ہے۔ حکومت کو ان احساسات کا مداوا کرنا چاہیے اور یہ ثابت کرنا چاہیے کہ وہ تمام علاقوں اور تمام لوگوں کا خیال رکھتی ہے۔
یہ انتظامی تنظیمِ نو اسی سمت میں ایک قدم ہے۔ مزید علاقوں کو ان کے اپنے اضلاع اور تحصیلیں دے کر حکومت ان کی اہمیت کا اعتراف کر رہی ہے۔ یہ قدم ان میں ملکیت کا احساس پیدا کر رہا ہے اور انہیں دکھا رہا ہے کہ وہ اس نظام کا حصہ ہیں۔ اس سے اعتماد بحال کرنے اور لوگوں کو ریاست کے قریب لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ تبدیلی چیلنجز سے خالی نہیں ہوگی۔ حکومت کو وسائل مختص کرنے ہوں گے؛ نئے دفاتر، عملے اور بجٹ کی ضرورت ہوگی جس میں وقت اور پیسہ لگے گا۔ اس کے علاوہ باہمی ہم آہنگی کا مسئلہ بھی ہوگا۔ مختلف اضلاع کو مل کر کام کرنا ہوگا اور معلومات و وسائل کا تبادلہ کرنا ہوگا، جو ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ یہ بلوچستان کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ صوبے کا انتظامی نقشہ دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ محض کوئی کاغذی یا بیوروکریٹک مشق نہیں ہے، بلکہ ارادے کا اظہار ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت طرزِ حکومت کو بہتر بنانے، ترقی لانے اور اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے۔