
خبر کدا ویب ڈیکس: کالعدم تنظیم بی ایس او آزاد کے ترجمان شولان بلوچ کی جانب سے ایک بار پھر حقائق کے برعکس دعوے کیے گئے ہیں جن میں یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سرحد پار مقیم بلوچ سیاسی کارکنان کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ڈاکٹر عبدالرشید کے قتل کو جنگی جرم قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ تمام الزامات زمینی حقائق سے چشم پوشی اور ایک مخصوص یکطرفہ بیانیے کو ہوا دینے کی گھناؤنی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔
سیاسی پناہ کے نام پر حقائق پر پردہ پوشی: یہ دعویٰ سراب محض ہے کہ سیاسی کارکنان اپنے ہی وطن میں مہاجر بننے پر مجبور ہیں۔ یہ بیانیہ اس تلخ حقیقت کو چھپاتا ہے کہ دراصل بہت سے افراد دہشت گرد گروہوں کے ساتھ گہرے روابط اور وابستگی قائم کرنے کے بعد ہی خود ساختہ طور پر سرحد پار فرار ہو گئے۔ بلوچستان کے اندر متعدد سیاسی جماعتیں بالکل آزادانہ طریقے سے فعال ہیں، انتخابات میں بھرپور حصہ لیتی ہیں اور عوامی اجتماعات منعقد کرتی ہیں، جو اس پروپیگنڈے کی نفی کرتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالرشید کا معاملہ اور بے بنیاد الزامات: ڈاکٹر عبدالرشید کے معاملے کو بھی بغیر کسی آزادانہ تصدیق یا ٹھوس شواہد کے اچھالا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں بھی کئی ایسے نام نہاد “پرامن کارکنان” اور “جبری گمشدگان” بعد میں کالعدم تنظیموں جیسے بی ایل اے (BLA) اور بی ایل ایف (BLF) کے صفِ اول کے دہشت گردوں کے طور پر سامنے آئے۔ عبدالودود ساتکزی، کریم جان، طیب بلوچ اور رفیق بزنجو کی مثالیں سب کے سامنے ہیں جنہیں پہلے لاپتہ افراد کی فہرستوں میں شامل کیا گیا، لیکن بعد میں خود انہی عسکریت پسند گروہوں نے ان کے خودکش حملوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا۔
بین الاقوامی سطح پر پروپیگنڈا اور قانونی تقاضے: سرحد پار پیش آنے والے ہر واقعے کو بلاوجہ ریاستی کارروائی قرار دے دینا دراصل اس خطے میں موجود باہمی عداوتوں، داخلی دشمنیوں، اور سرحد پار جرائم کی پردہ پوشی ہے۔ “نسل کشی” اور “جنگی جرائم” جیسے سنگین اور غیر مصدقہ الفاظ کا بار بار استعمال محض داخلی سیکیورٹی کے چیلنجز کو بین الاقوامی رنگ دینے کی ناکام کوشش ہے، جو کسی بھی قانونی یا زمینی معیار پر پورے نہیں اترتے۔
آئین، قانون اور اصل صورتحال: حقیقی سیاسی مسائل، اختلافات اور شکایات کا واحد حل پارلیمنٹ، آئین اور مروجہ قانونی راستوں میں پنہاں ہے، نہ کہ ریاست مخالف بیانات اور عسکریت پسندی کی حمایت میں۔ دہشت گرد عناصر کے خلاف ہونے والی قانونی اور ریاستی کارروائیوں کو “نسلی ظلم” کا نام دینے کی کوششیں کبھی بھی حقائق اور قانون کی حکمرانی کے سامنے ٹک نہیں سکتیں۔



