خضدار: بلوچستان حکام نے خضدار میں اسماء جھٹک کے والد اور ریٹائرڈ اسکول ٹیچر ماسٹر عنایت اللہ جھٹک کے قتل کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ملزمان کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ پولیس نے مقتول کے بیٹے کی مدعیت میں 4 نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ (FIR) درج کر لیا ہے۔
فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کے مطابق، ماسٹر عنایت اللہ جھٹک کو منگل کے روز خضدار کے علاقے شہزاد سٹی میں اس وقت گولی مار کر قتل کیا گیا جب وہ اذان دینے مسجد جا رہے تھے۔ کیس کی مدعیت ان کے بیٹے پولیس کانسٹیبل حامد اللہ جھٹک نے کی۔

ایف آئی آر کی تفاصیل اور قتل کا پس منظر
- نامزد ملزمان: ایف آئی آر میں ظہور احمد جمالزئی، نادر مگسی، شفیع محمد جمالزئی اور ظفر اللہ کو نامزد کیا گیا ہے۔
- قتل کی وجہ: مدعی کے مطابق مرکزی ملزم نے اسماء جھٹک کی شادی سے متعلق خاندان کو پہلے بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔
- واقعے کا وقت: یہ قتل مبینہ طور پر اسماء جھٹک کی جانب سے سوشل میڈیا پر ویڈیو بیان جاری کرنے کے محض 2 گھنٹے بعد پیش آیا۔
- قانون کی دفعات: خضدار سٹی تھانے کے ایس ایچ او منیر احمد جھٹک کے مطابق کیس میں قتل، مجرمانہ دھمکیاں، فساد اور مہلک ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات شامل ہیں۔
حکومت اور اسمبلی کا ردِعمل
وزیرِ داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو:
واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو 2 دنوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا:
“اسماء جھٹک کیس میں انصاف فراہم کیا جائے گا اور کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہوگا۔ ملوث افراد کے اثر و رسوخ کی پروا کیے بغیر کارروائی ہوگی۔“
اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبد الخالق اچکزئی:
کیس میں اب تک گرفتاری نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام کو جواب طلبی کے لیے طلب کر لیا ہے۔
‘خلقِ جھلاوان’ کی وضاحت
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے الزامات پر نواب ثناء اللہ زہری کی رہائش گاہ سے منسلک تنظیم ‘خلقِ جھلاوان‘ کے ترجمان نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا:
- اسماء جھٹک کے مبینہ اغوا یا ان کے والد کے قتل سے تنظیم کا کوئی تعلق نہیں۔
- خلقِ جھلاوان نے کبھی مجرموں کو پناہ نہیں دی۔