
حکومتِ پاکستان نے مالی سال 2022-23 سے 2026-27 تک بلوچستان کے مغربی خطے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت بنیادی ڈھانچے اور مواصلاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے نو (9) اہم سڑکوں کے منصوبوں پر پیش رفت تیز کر دی ہے۔ ان منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 310.30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے اب تک 163.17 ارب روپے جاری اور خرچ کیے جا چکے ہیں۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق، یہ منصوبے صوبے میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافے اور علاقائی روابط کی استواری میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
منصوبوں کی تفصیل اور جاری کردہ فنڈز کا جائزہ
| سڑک / موٹروے کا سیکشن | لمبائی (کلومیٹر) | کل مختص رقم | اب تک خرچ کردہ رقم |
| خضدار – کچلاک سیکشن (این-25) | 330 کلو میٹر | 82.60 ارب روپے | 40.67 ارب روپے |
| کراچی – کرارو اور وڈھ – خضدار (این-25) | 273 کلو میٹر | 63.00 ارب روپے | 33.54 ارب روپے |
| کرارو – وڈھ اور کچلاک – چمن (این-25) | 187 کلو میٹر | 81.00 ارب روپے | 25.29 ارب روپے |
| آواران – نال سیکشن (ایم-8) | 168 کلو میٹر | 26.03 ارب روپے | 20.02 ارب روپے |
| بسیمہ – خضدار سیکشن (این-30) | 106 کلو میٹر | 13.55 ارب روپے | 12.97 ارب روپے |
| ہوشاب – آواران سیکشن (ایم-8) | 146 کلو میٹر | 14.79 ارب روپے | 9.40 ارب روپے |
| ژوب – کچلاک سیکشن (این-50) | 298 کلو میٹر | 14.58 ارب روپے | 8.43 ارب روپے |
| نوکنڈی – ماشکیل روڈ | 103 کلو میٹر | 7.84 ارب روپے | 6.90 ارب روپے |
| کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس (این-25) | 22.7 کلو میٹر | 6.91 ارب روپے | 5.95 ارب روپے |
بلوچستان کی ترقی پر اثرات
ان تمام بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی مکمل فعال سازی سے:
- بین الصوبائی و علاقائی ترسیل: گوادر پورٹ سے اندرونِ ملک اور وسطی ایشیائی ممالک تک تجارتی مال کی نقل و حمل تیز تر ہوگی۔
- مقامی معیشت کی بحالی: بلوچستان کے دور دراز علاقوں جیسے آواران، بسیمہ، اور ماشکیل میں بنیادی سہولیات اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
- محفوظ اور جدید شاہراہ بنیادی ڈھانچہ: قومی شاہراہ این-25 اور ایم-8 کی توسیع سے حادثات میں کمی اور سفری وقت میں نمایاں بچت ممکن ہوگی۔
