
میدانِ جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے مسلسل اور کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) نے شدت پسند تنظیم ‘فتنہ الخوارج‘ (FAK) کا ناصرف گھیرا تنگ کر دیا ہے بلکہ اس کے بنیادی سٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ زمین پر پے در پے شکست کے بعد اب یہ گروپ ایک نئی، لیکن انتہائی واضح حکمتِ عملی پر گامزن ہے—سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ میں من گھڑت کہانیوں کے ذریعے مصنوعی طاقت کا مظاہرہ۔
حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی تنظیم اپنے جنگجوؤں کو محاذ پر کھڑا رکھنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے، تو وہ حقائق کو مروڑنے اور پروپیگنڈا جنگ کا سہارا لیتی ہے۔ فتنہ الخوارج آج اسی صورتحال سے دوچار ہے۔ جن حملوں کا وجود صرف کاغذوں اور سوشل میڈیا کے دعوؤں تک محدود ہے، ان کی ذمہ داری قبول کرنا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ اب ان کے پاس دکھانے کے لیے کوئی حقیقی کامیابی موجود نہیں ہے۔
اس پروپیگنڈا مہم کے پسِ پردہ چند واضح مقاصد کارفرما ہیں:
- مایوسی کا خاتمہ: سیکیورٹی فورسز کے شدید دباؤ کے باعث جنگجوؤں کا حوصلہ ٹوٹ چکا ہے اور وہ اپنی مرکزی پناہ گاہ، افغانستان، کی طرف فرار ہو رہے ہیں۔ ایسے میں جھوٹے دعوے ان کے ٹوٹتے ہوئے مورال کو سہارا دینے کی ایک کوشش ہے۔
- خوف و ہراس کا پھیلاؤ: واقعی کامیابی نہ ملنے پر، عوام میں افواہوں کے ذریعے بے چینی پیدا کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ گروپ ابھی بھی متحرک ہے۔
- بیرونی فنڈنگ کی ضرورت: یہ فرضی کارروائیاں ان کے بیرونی سپانسرز کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہیں تاکہ مالی اور لاجسٹک امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہے۔
فتنہ الخوارج کی جانب سے اطلاعاتی محاذ پر لڑی جانے والی یہ جنگ اس بات کی عکاس ہے کہ گروپ کا آپریشنل زوال اپنے آخری مراحل میں ہے۔ فرضی خبریں اور مبالغہ آرائی سیکیورٹی فورسز کی کامیابیوں اور اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتیں کہ زمینی حقائق اب مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔
فتنہ الخوارج کا اپنی آپریشنل ناکامیوں کو ڈس انفارمیشن کے ذریعے چھپانے کا یہ انداز مزید کیا ظاہر کرتا ہے؟



