فتنۃ الہندوستان کی معاشی دہشت گردی: نظریاتی جنگ یا تاوان کا دھندا؟

بلوچستان میں دہائیوں سے جاری بدامنی کو اکثر اوقات “حقوق کی تحریک” یا “قوم پرستی” کا رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس زہریلے بیانیے کا نقاب اترتا جا رہا ہے۔ 24 جولائی کو بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں پیش آنے والا واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کالعدم تنظیمیں بالخصوص بی ایل اے (فتنۃ الہندوستان) اب کسی نام نہاد نظریے کی جنگ نہیں لڑ رہی، بلکہ یہ محض ایک منظم مجرمانہ گینگ، بھتہ خور مافیا اور اغوا برائے تاوان میں ملوث ایک گینگ بن چکی ہے۔

اس ہی ظرح اب  ایک نجی کوریئر کمپنی کی ڈلیوری گاڑی کے ڈرائیور اور ملازم—جان محمد اور سجاد علی—کو دن دہاڑے اغوا کر لیا جاتا ہے اور دو دن بعد ان کی رہائی کے بدلے ڈھائی کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک محنت کش کوریئر ڈرائیور، جو چند ہزار روپے کی ماہانہ دہاڑی پر اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے، اس کا ریاست کی پالیسیوں یا کسی سیاسی تنازع سے کیا تعلق؟ ہزارہ ٹاؤن اور مومن آباد کے یہ دو غریب اور معصوم شہری آخر کس جرم کی سزا بھگت رہے ہیں؟

سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ذرائع کا یہ تجزیہ بالکل درست ثابت ہو رہا ہے کہ اس طرح کی نام نہاد آزادی پسند تنظیمیں اب اپنی بقا اور مالی رسد کے لیے “ڈیجیٹل اور فزیکل ڈکیتیوں” کا سہارا لے رہی ہیں۔ جب بیرونی فنڈنگ کے ذرائع پر ریاستی اداروں کا گھیرا تنگ ہوتا ہے، تو یہ گروہ بینک ڈکیتیوں، تاوان کے لیے اغوا، نجی کمرشل گاڑیوں پر حملوں اور چھوٹے کاروباریوں سے بھتہ خوری پر اتر آتے ہیں۔ یہ معاشی دہشت گردی (Economic Terrorism) کی بدترین شکل ہے۔

اس قسم کے واقعات کے پشت پر تین واضح اہداف نظر آتے ہیں:

  1. دہشت گردی کی مالی معاونت (Terror Financing): تاوان اور بھتے کے ذریعے حاصل کی جانے والی رقم سے مزید اسلاحہ اور بارود خریدا جاتا ہے تاکہ ملک میں بدامنی کا بازار گرم رکھا جا سکے۔
  2. مقامی معیشت کی تباہی: نجی لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کا مقصد بلوچستان کے معاشی حبس اور خوف کی فضا قائم کرنا ہے، تاکہ کوئی غیر ملکی یا مقامی سرمایہ کار بلوچستان کا رخ نہ کر سکے۔
  3. عوام میں خوف و ہراس: عام محنت کشوں کو نشانہ بنا کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کوئی بھی شخص ان کی بربریت سے محفوظ نہیں ہے۔

لیکن اس گندے کھیل کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ اس کا راست نقصان بلوچستان کے ان عام اور غریب شہریوں کو پہنچ رہا ہے جن کے حقوق کا نعرہ لگا کر یہ گروہ وجود میں آئے تھے۔ کوریئر کمپنی کا سامان روکنے یا تاوان نہ ملنے پر محنت کشوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دینے سے کون سا بلوچستان آزاد ہو رہا ہے؟ یہ کوئی انقلابی جدوجہد نہیں، بلکہ خالصتاً قانون شکنی، جرائم پیشہ ذہنیت اور معصوم انسانی جانوں کا سودا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ سیکیورٹی ادارے مستونگ، کلی انجیری اور کھڈ کوچہ جیسے علاقوں میں جارحانہ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی رفتار مزید تیز کریں۔ نہ صرف ان دونوں مغوی ملازمین کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے، بلکہ اس پورے نیٹ ورک کا قلع قمع کیا جائے جو بلوچستان کی شاہراہوں کو تاوان اور بھتہ خوری کا اڈا بنانا چاہتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی اور سول سوسائٹی کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اپنے ہی بھائیوں کے خون کی ہولی کھیلنے والے اور روزی روٹی کمانے والے محنت کشوں کو اغوا کرنے والے عناصر بلوچستان کے دوست نہیں ہو سکتے۔ جب تک ان مجرمانہ نیٹ ورکس کو مکمل طور پر بے نقاب اور ختم نہیں کیا جائے گا، بلوچستان میں امن اور معاشی خوشحالی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

Trending