غیر ملکی بیساکھیوں کا فریب: بلوچستان مخالف بیانیے کی سچائی کیا ہے؟

حال ہی میں غیر ملکی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ریاست مخالف عناصر اور خود ساختہ جلاوطن رہنماؤں کی جانب سے ایک پرانا بیانیہ دوبارہ دہرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بلوچستان کے وسائل کا استحصال ہو رہا ہے، وہاں آزادی کی تحریک عروج پر ہے، اور مغربی طاقتیں اس خطے میں کسی بڑی جیو پولیٹیکل تبدیلی کی منتظر ہیں۔

اگر اس بیانیے کو سنسنی خیز لفظی جادوگری اور جذباتی نعرے بازی سے الگ کر کے دیکھا جائے تو اس میں نہ تو کوئی نئی بات ہے اور نہ ہی اس کا حقیقت سے کوئی تعلق ہے۔ یہ ایک سوچا سمجھا سیاسی اور آن لائن پروپیگنڈا ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے معاشی ستون—خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC)—کو متنازع بنانا اور شکست خوردہ مسلح گروہوں کو فرضی سہارا دینا ہے۔

اس بیانیے کے کھوکھلے پن کو سمجھنے کے لیے جیو پولیٹیکل دعوؤں کے بجائے بنیادی حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

۱. استحصال یا معاشی پیشرفت؟ سی پیک اور معدنیاتی منصوبوں کی حقیقت

یہ دعویٰ کرنا کہ سی پیک، سیندک اور ریکوڈک جیسے منصوبے “وسائل کی لوٹ مار” ہیں، جدید معاشی حقائق سے ناواقفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ معدنیات نکالنے اور بنیادی ڈھانچے (Infrastructure) کی تعمیر کے لیے اربوں ڈالر کے سرمائے، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی سپلائی چین کی ضرورت ہوتی ہے—جو کوئی بھی صوبہ یا غیر ریاستی عنصر تنہا حاصل نہیں کر سکتا۔

18ویں آئینی ترمیم اور ریکوڈک کے نئے معاہدے کے تحت حکومتِ بلوچستان کے پاس اس منصوبے کی 25 فیصد مفت شراکت داری (Free-Carried Equity) ہے، جس کے تحت بغیر کسی مالی انویسٹمنٹ کے تمام رائلٹی اور منافع کا بڑا حصہ براہِ راست صوبائی خزانے میں جائے گا۔

                     ریکوڈک منصوبے میں شراکت داری                   

• 50% بیرک گولڈ                                     

  • 25% وفاقی سرکاری اداروں کی سرمائیکاری                             

  • 25% حکومتِ بلوچستان (بغیر کسی لاگت کے مفت شراکت اور رائلٹی)       

۲. دہشت گردی کے خلاف کارروائی بمقابلہ “سیاسی اختلاف

مسلح گروہوں کے ہمدرد ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو “سیاسی جبر” کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب سیکیورٹی ادارے کالعدم تنظیموں جیسے BLA یا BLF کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہیں، تو اسے ریاستی مظالم کا نام دیا جاتا ہے۔

لیکن اس پروپیگنڈے میں اس حقیقت کو چھپایا جاتا ہے کہ ان مسلح گروہوں کا اصل نشانہ کون ہیں:

  • بے گناہ مزدور: دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے غریب مزدور، اساتذہ اور انجینئرز جنہیں محض ان کی قومیت کی بنیاد پر قتل کیا جاتا ہے۔
  • مقامی بلوچ قیادت: وہ قبائلی اور سیاسی رہنما جو جمہوریت اور آئین پر یقین رکھتے ہیں۔
  • عوامی املاک: گیس پائپ لائنز، بجلی کے گرڈ اور سڑکیں جو عام بلوچ عوام کی روزمرہ زندگی کے لیے ضروری ہیں۔

دنیا کا کوئی بھی خودمختار ملک کسی بھی غیر ریاستی عنصر کو تشدد کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ریاست کے اقدامات اپنے شہریوں کے تحفظ اور ملکی سالمیت کے لیے ہیں۔

۳. مغربی حمایت کا فریب

علیحدگی پسند بیانیے کے داعی اکثر یورپی ایوانوں یا غیر ملکی محفلوں میں اپنے اجلاسوں کو یوں پیش کرتے ہیں جیسے مغربی دنیا ان کی حمایت کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون اور سفارت کاری کی بنیادی سمجھ سے محرومی کا ثبوت ہے۔

  • بین الاقوامی سرحدیں: اقوامِ متحدہ اور تمام عالمی طاقتیں (بشمول امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین) پاکستان کی جغرافیائی حدود اور سالمیت کو تسلیم کرتی ہیں۔
  • دہشت گرد تنظیموں کا اندراج: امریکہ کے محکمہ خارجہ اور برطانوی حکومت نے BLA جیسے گروہوں کو باقاعدہ بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے۔
  • عالمی مفادات: ذمہ دار عالمی طاقتیں کسی بھی ایٹمی ملک کو مستحکم دیکھنا چاہتی ہیں اور وہ اس خطے میں انارکی کو ہرگز فروغ نہیں دیں گی۔

بین الاقوامی سفارت کاری ملکوں کے اپنے مفادات اور قوانین کے تحت چلتی ہے، جلاوطن افراد کی خواہشات پر نہیں step-by-step۔

۴. حقیقی حل: جمہوریت، خود مختاری اور یکجہتی

یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ بلوچستان کو گرانقدر مسائل اور محرومیوں کا سامنا رہا ہے، جن میں مقامی انتظامیہ کی ناہلی اور فنڈز کا صحیح استعمال نہ ہونا شامل ہے۔ تاہم، ان مسائل کا حل آئین کے دائرے میں ہی ممکن ہے:

  1. مقامی حکومتوں کی مضبوطی: تاکہ این ایف سی ایوارڈ (NFC Award) کے اربوں روپے عام بلوچ شہری کی بہتری پر خرچ ہوں۔
  2. نوجوانوں کو بااختیار بنانا: تعلیم، ملازمتوں کی فراہمی، اور فوج و سول سروسز میں بلوچ نوجوانوں کی شمولیت میں مسلسل اضافہ۔
  3. پرامن مذاکرات: ان تمام لوگوں کے لیے بابِ مذاکرات کھلا رکھنا جو ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

نتیجہ

پاکستان مخالف بیانیہ عوام کو ایک غلط انتخاب دکھانے کی کوشش کرتا ہے: یا تو مسلح بغاوت کرو یا محرومی قبول کرو۔ لیکن بلوچستان کا عام شہری ان دونوں کو مسترد کرتا ہے۔ بلوچ عوام پرامن، محفوظ اور خوشحال پاکستان کے خواہاں ہیں۔

سی پیک کے اگلے مرحلے اور ریکوڈک جیسے عالمی منصوبوں کی شروعات سے بلوچستان کی اہمیت مزید بڑھے گی۔ ریاست کا فرض بالکل واضح ہے: ترقیاتی کاموں کی حفاظت، آئین کی حکمرانی اور ہر اس شہری کا استقبال جو پرامن مستقبل کے لیے آگے بڑھے۔

Trending