
خبر کدا ویب ڈیکس: وزارتِ پیٹرولیم نے بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے علاقے حب میں جدید آئل سٹی کے قیام کی فزیبلٹی سٹڈی کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو خطے کا بڑا پیٹرولیم لاجسٹک اور ٹریڈنگ حب بنانا ہے۔ یہ منصوبہ بلوچستان کی معاشی اہمیت اور قومی ترقیاتی ترجیحات میں اس کے مرکزی کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ گوادر اور سی پیک کے بعد یہ صوبے میں ایک اور میگا انفراسٹرکچر منصوبے کا اضافہ ہے، جو مقامی روزگار، تجارتی سرگرمی اور قومی توانائی سلامتی سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
وفاقی حکومت نے حب کے ساحلی علاقے کو عالمی معیار کے پیٹرولیم ٹریڈنگ اور اسٹوریج حب میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس کی فزیبلٹی اسٹڈی معروف بین الاقوامی کنسلٹنسی فرم ٹیکنیک کے سپرد کی گئی ہے۔ مجوزہ آف شور سنگل پوائنٹ مورنگ سہولت بڑے آئل ٹینکرز کے لیے لنگر اندازی ممکن بنائے گی، جو بلوچستان کے ساحل کی بین الاقوامی تجارتی حیثیت میں اضافہ کرے گی۔
اس پروجیکٹ کے تحت بانڈڈ اسٹوریج سہولیات کے ذریعے بین الاقوامی کمپنیاں فوری ٹیکس ادائیگی کے بغیر تیل ذخیرہ کر سکیں گی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ دو نئی مخصوص پائپ لائنز کے ذریعے آف شور ٹرمینل کو قومی سپلائی نیٹ ورک سے جوڑا جائے گا؛ پہلی پائپ لائن خام تیل کیماڑی کی صنعتی تنصیبات تک پہنچائے گی جس سے کراچی کی ریفائننگ صنعت کو فائدہ ہوگا، جبکہ دوسری پائپ لائن پیٹرولیم مصنوعات کو پورٹ قاسم اور موجودہ وائٹ آئل پائپ لائن سے منسلک کرے گی۔
یہ منصوبہ پاکستان کی توانائی سپلائی چین کو مستحکم اور خود کفیل بنانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ حب میں یہ میگا انفراسٹرکچر منصوبہ بلوچستان میں وفاق کی سنجیدہ ترقیاتی سرمایہ کاری کا واضح ثبوت ہے، جو صوبے کے قومی دھارے میں انضمام کو تقویت دیتا ہے۔ مکمل ہونے پر یہ منصوبہ ہزاروں مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع، ساحلی شہروں کی معاشی نمو، اور بلوچستان کو پاکستان کی توانائی و تجارتی حکمتِ عملی کے مرکز میں لے آئے گا۔



