
خبر کدا)ویب ڈیکس(: کراچی کے علاقے منگھوپیر میں ہونے والے ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں دو افراد کی ہلاک کے بعد سیکیورٹی فورسز کی کارروائی اور مختلف فعال نیٹ ورکس کے دعوؤں کے درمیان شدید تضاد سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک طرف حکام اسے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف اسے جعلی مقابلہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
منگھوپیر آپریشن کی تفصیلات: سرکاری رپورٹس کے مطابق، محکمہ انسدادِ دہشت گردی (CTD) نے 19 ستمبر کو منگھوپیر کے گوٹھ کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے دو افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک کلاشنکوف، ایک پستول اور موٹر سائیکل برآمد کر کے فرانزک جانچ کے لیے تحویل میں لے لی گئی ہے، جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کراچی میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔
مبینہ گمشدگی اور کارکنوں کے دعوے: دوسری جانب، مختلف کارکن تنظیموں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے 28 سالہ ہلال صیاد بھی شامل ہیں، جنہیں مبینہ طور پر 5 جولائی 2026 کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور بعد میں انہیں منگھوپیر کے مبینہ مقابلے میں مار دیا گیا۔
تاہم، اس معاملے پر تاحال کوئی آزادانہ فرانزک رپورٹ یا عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا جو ان متضاد دعوؤں کا قطعی فیصلہ کر سکے۔ قانون کے تحت سیکیورٹی آپریشنز کے دوران پیش آنے والے ایسے ہر واقعے کی میڈیکولیگل جانچ اور باقاعدہ انکوائری عمل میں لائی جاتی ہے۔
حقائق بمقابلہ سوشل میڈیا مہم: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہر سیکیورٹی انکاؤنٹر کو بغیر کسی تفتیش کے “جعلی” قرار دے دینا ایک روایتی بیانیہ بن چکا ہے۔ قانون کی بالادستی جذبات یا سوشل میڈیا کی چند گھنٹوں کی ہیش ٹیگ مہمات پر نہیں، بلکہ ٹھوس شواہد اور عدالتی کارروائی پر چلتی ہے۔ لواحقین کو اصل حقائق ڈیو پروسیس اور قانونی اداروں کے ذریعے ہی مل سکتے ہیں، نہ کہ پہلے سے طے شدہ نتائج پر مبنی بیانات سے۔



