خاران حملے کے بعد بلوچستان بھر کی پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا

خاران میں پولیس تھانے اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے دفاتر پر مسلح افراد کے حملے کے بعد بلوچستان بھر میں پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ مسلح افراد ہفتے کی رات گئے شہر میں داخل ہوئے اور مختلف سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے شہر کے مرکزی پولیس تھانے پر دھاوا بول دیا، سرکاری ریکارڈ کو نقصان پہنچایا اور بعد ازاں عمارت کو آگ لگا دی۔ اس کے علاوہ انہوں نے سی ٹی ڈی کے دفتر میں داخل ہو کر وہاں موجود ریکارڈ بھی تباہ کر دیا اور عمارت کو نذرِ آتش کر دیا۔

حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز علاقے میں پہنچ گئیں اور خاران شہر کے مختلف حصوں میں حملہ آوروں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔

رات گئے تک شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس کی بھاری نفری کو شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کے علاوہ دیگر حساس مقامات پر بھی تعینات کر دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد زیادہ تھی اور وہ کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے، تاہم فائرنگ کے تبادلے یا حملوں کے دوران کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

واقعے کے بعد حکام نے صوبے بھر میں ہائی الرٹ نافذ کرتے ہوئے تمام پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر اپنی متعلقہ چوکیوں اور تھانوں میں پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ اہلکاروں کو مکمل اسلحے اور سازوسامان کے ساتھ ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ احتیاطی تدابیر کے طور پر غیر ضروری نقل و حرکت کو محدود کر دیا گیا ہے۔

Trending