خاران میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے آپریشنز کے دوران کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے پانچ دہشت گرد مارے گئے، جبکہ علاقے سے سامنے آنے والی ویڈیوز نے اس دعوے کی تردید کر دی کہ دہشت گردوں نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔
یکم اگست کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے خاران کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کیں۔ مقامی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے بعد فورسز نے دو مختلف مقامات پر آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں پانچ دہشت گرد مارے گئے۔

خاران میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا، جنہیں مستقبل میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔
برآمد ہونے والے اسلحے میں شامل ہیں:
- دو راکٹ پروپلڈ گرینیڈ (آر پی جی) لانچر
- آر پی جی کے 14 راکٹ
- دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) بنانے کا سامان
- تین سب مشین گنز (ایس ایم جیز)
- بھاری مقدار میں گولہ بارود اور دیگر اسلحہ
حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے ہتھیاروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد مزید حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔
ویڈیوز نے بی ایل اے کے دعووں کو غلط ثابت کر دیا
حملوں کے بعد کالعدم بی ایل اے نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے خاران شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، تاہم واقعے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز نے اس دعوے کو غلط ثابت کر دیا۔
ویڈیوز میں فرنٹیئر کور (ایف سی)، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو شہر کے اہم مقامات، سرکاری عمارتوں اور داخلی راستوں پر تعینات دیکھا جا سکتا ہے۔
فورسز نے پوری رات گشت اور سرچ آپریشن جاری رکھا، جبکہ شہر کے کئی علاقوں میں معمول کی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔
گوادر میں مزید دو دہشت گرد ہلاک
گوادر میں ہونے والی ایک علیحدہ کارروائی کے دوران بھی دو دہشت گرد مارے گئے۔
خاران اور گوادر میں حالیہ کارروائیوں کے بعد بلوچستان بھر میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔
سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری
سیکیورٹی حکام کے مطابق باقی ماندہ دہشت گردوں کی تلاش اور ان کے خاتمے کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشنز بدستور جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کی ایک بڑی سازش کو ناکام بنایا گیا، جس کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا، شہریوں کو نشانہ بنانا اور عوام کا اعتماد مجروح کرنا تھا۔
حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حملوں اور اس کے بعد کی کارروائیوں میں کسی شہری یا سیکیورٹی اہلکار کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
مقامی افراد کی معلومات سے کارروائی ممکن ہوئی
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مقامی شہریوں کی بروقت اطلاعات کی بدولت فورسز دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے میں کامیاب ہوئیں۔
حکام نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مقامی آبادی کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
صوبے بھر میں ہائی الرٹ
حالیہ واقعات کے بعد بلوچستان بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور پولیس سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو فوری طور پر اپنی ڈیوٹیوں پر واپس آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکام نے سیکیورٹی اہلکاروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت غیر ضروری نقل و حرکت کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ تمام دہشت گردوں کے خاتمے تک انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔
