
خبر کدا ویب ڈیسک: ایک طرف پارلیمانی مراعات اور سیاسی پمفلٹ بازی، تو دوسری طرف سرِعام ریاست مخالف شعلہ بیانی—سیاسی دوہرے معیار کی یہ داستان نئی نہیں، مگر بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP) کے سربراہ سردار اختر مینگل کے حالیہ کراچی پریس کلب کے خطاب نے اس تضاد کو پھر سے عیاں کر دیا ہے۔ زمینی حقائق، آئینی حدود اور دہشتگردی کے سنگین ناسور کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے جو من گھڑت بیانیہ پیش کیا گیا، سیاسی اور آئینی حلقوں نے اسے حقیقت سے مکمل فرار قرار دیا ہے۔
سردار اختر مینگل کا سیاسی سفر کوئی ڈھکا چھپا باب نہیں ہے۔ وہ 1988ء سے مسلسل انتخابی عمل کا حصہ ہیں، صوبے کی وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں، اور آج بھی ملک کے آئینی دائرے میں رہ کر کھل کر سیاست فرما رہے ہیں۔ کراچی پریس کلب جیسے مرکزی پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر ایسی تند و تیز اور بے باک تنقید کرنا خود اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ریاست کے اندر سیاسی آزادیِ اظہار کا دائرہ کس قدر وسیع ہے۔ اگر واقعی یہاں کوئی جبری مطلق العنانیت ہوتی، تو اس نوعیت کے بیانات سرِعام دینا خواب و خیالات کے سوا کچھ نہ ہوتا۔
البتہ، اس سیاست کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ ایک طرف تو شخصی اور خاندانی تاریخ کے تمغے سجائے جاتے ہیں، لیکن دوسری طرف BLA اور BLF جیسی کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے سکیورٹی فورسز، بے گناہ شہریوں اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر کیے جانے والے سینکڑوں خونریز حملوں پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ شاہوانی اسٹیڈیم یا لکپاس کے المیوں کا تذکرہ کرتے وقت اس سچی حقیقت پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے کہ ان تمام پرتشدد کارروائیوں کی ذمہ داری خود انہی دہشتگرد تنظیموں نے قبول کی تھی۔
“اب تشدد کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا” جیسے خطرناک جملے دراصل جمہوری اور آئینی راستوں سے جان چھڑانے اور براہِ راست دہشتگردی کے حق میں فکری زمین ہموار کرنے کے مترادف ہیں۔ جو رہنما آئین کے تحفظ کا حلف اٹھا کر اسمبلیوں، عدالتوں اور میڈیا کے تمام دروازے استعمال کر رہے ہوں، ان کی زبان سے اس قسم کے بیانیے کی ترویج قانون اور اخلاقیات دونوں کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔
بلوچستان کے حقیقی مسائل—چاہے ان کا تعلق محرومیوں سے ہو، حقوق سے یا بہتر گورننس سے—ان کا حل پارلیمنٹ، آئین اور قانون کی حکمرانی کے اندر ہی ممکن ہے، نہ کہ پورے ریاستی نظام کو کٹہرے میں کھڑا کر کے انارکی کا بازار گرم کرنے میں۔ اندرونی سکیورٹی کے چیلنجز کو وجودی خطرات یا جبری جبر کے طور پر پیش کرنے کی یہ کوششیں حقائق اور ناقابلِ تردید شواہد کے سامنے ہمیشہ ریت کی دیوار ثابت ہوں گی۔



