
ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے شعبہ ترقیِ خواتین، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے صوبے میں ‘ایسنشل پیکیج آف ہیلتھ سروسز’ (EPHS) کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ انہوں نے تاکید کی ہے کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی ماؤں اور بچوں کی بہترین صحت کے بغیر ممکن نہیں، اسی لیے اسے پرائمری ہیلتھ کیئر اسٹریٹجی کا مرکزی حصہ بنایا گیا ہے۔
اس اہم اقدام کا مقصد دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔ اس پروگرام کے تحت صوبے بھر میں 164 بنیادی صحت کے مراکز (Basic Health Centres) کو فعال کر دیا گیا ہے، جہاں ضروری ادویات، تشخیص کی سہولیات، تربیت یافتہ عملہ اور ایمرجنسی ریفرل سسٹم کی سہولت موجود ہوگی۔
پروگرام کے اہم نکات:
- ماں اور بچے کی بنیادی دیکھ بھال: دورانِ حمل باقاعدہ معائنے (ANC)، بلڈ پریشر، ہیموگلوبن کی جانچ اور ہائی رسک کیسز کی بروقت نشاندہی کو یقینی بنایا جائے گا۔
- ایمرجنسی طبی سہولیات: زچگی کے دوران پیش آنے والی پیچیدگیوں، جیسے کہ زیادہ خون بہنے اور شدید انفیکشن سے نمٹنے کے لیے مراکز کو مکمل طور پر مجهز کیا جائے گا۔
- مؤثر ریفرل سسٹم: بنیادی صحت کے مراکز کو تحسیل اور ضلعی اسپتالوں سے جوڑا گیا ہے تاکہ پیچیدہ کیسز میں مریضہ کو بغیر کسی تاخیر کے اعلیٰ طبی سہولیات تک منتقل کیا جا سکے۔
- نوائیدہ بچوں کی دیکھ بھال: پیدائش کے ابتدائی لمحات میں بچوں کی دیکھ بھال، ماں کے دودھ کی فوری شروعات، انفیکشن سے بچاؤ اور حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
- فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کا کردار: لیڈی ہیلتھ ورکرز اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ وہ دور دراز علاقوں میں آگاہی اور بروقت طبی امداد پہنچا سکیں۔
ڈاکٹر ربابہ بلیدی (جو خود بھی ایک طبی ماہر ہیں) نے کہا کہ اس ہیلتھ پالیسی کی کامیابی کا حقیقی معیار یہ ہوگا کہ صوبے میں مادری اور بچوں کی اموات کی شرح میں واضح کمی لائی جائے، تاکہ ہر عورت اور نئے پیدا ہونے والے بچے کو تحفظ اور معیاری علاج کا حق مل سکے۔



