آپریشن شعبان: بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف ریاست کا عزمِ مصمم اور منطقی انجام کا راستہ

بلوچستان کی مٹی ایک بار پھر امن، استحکام اور ریاستی رٹ کی بحالی کی گواہ بن رہی ہے۔ زیارت کے منگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر ہونے والے بزدلانہ اور خونریز حملے نے جہاں پوری قوم کو سوگوار کیا، وہاں ریاستِ پاکستان کو یہ واشگاف پیغام بھی دیا کہ اب مصلحت پسندی کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اس بزدلانہ واقعے میں قانون کے محافظوں کو اغوا کر کے بے دردی سے شہید کرنے والے درندوں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کا یہ وار خود ان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ جواب میں شروع کیا جانے والا آپریشن شعبان محض ایک عسکری کارروائی نہیں ہے، بلکہ یہ ریاستِ پاکستان کے اس پختہ عزم کا اشتہار ہے کہ اب بلوچستان کی سرزمین پر کسی کو خون کی ہولی کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردوں کے ٹھکانے زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے ملیا میٹ کیے جا رہے ہیں۔ اس آپریشن کی سب سے بڑی خاصیت اور طاقت اس کا مربوط نیٹ ورک ہے۔ پاک فوج، بلوچستان فرنٹیئر کور (FC)، پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (CTD) کا ایک پیج پر ہونا اور کندھے سے کندھا ملا کر لڑنا اس بات کی دلیل ہے کہ دفاعی ادارے دشمن کی ہر چال سے دو قدم آگے ہیں۔

دشمن کا اصل چہرہ اور “فتنہ الہندوستان

پاکستانی بیانیے کا اہم ترین نقطہ دشمن کی شناخت اور اس کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنا ہے۔ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کوئی مقامی بغاوت یا اندرونی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ سرحد پار بیٹھے آقاؤں اور بیرونی سرپرستی میں تیار ہونے والے نیٹ ورکس کی سازش ہے۔

پاکستان کے دشمن عناصر، خاص طور پر وہ جو سی پیک (CPEC) اور گوادر پورٹ کی ترقی سے سے خوفزدہ ہیں، بلوچستان کو غیر مستحکم رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر بلوچستان پرامن ہو گیا تو پاکستان معاشی سپر پاور بننے کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ چنانچہ، فتنہ الہندوستان جیسے نیٹ ورکس کے ذریعے معصوم شہریوں اور فورسز کو نشانہ بنا کر ریاست کو کمزور کرنے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں، جنہیں سیکیورٹی فورسز نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے خاک میں ملا دیا ہے۔

قومی قیادت کا غیر متزلزل اتحاد

وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ دوٹوک مؤقف کہ “قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا” اور عسکری قیادت کا اس فیصلے کے پیچھے کھڑا ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے کوئی ‘گرے ایریا’ (مبہم جگہ) باقی نہیں بچا۔ اب فیصلہ فائنل ہے: یا تو دہشت گرد ہتھیار ڈالیں یا پھر نشانِ عبرت بننے کے لیے تیار رہیں۔

ریاستی رٹ کے قیام کے لیے اس قسم کی یکسوئی وقت کی اہم ترین ضرورت تھی کیونکہ:

بلوچستان پاکستان کا دل ہے۔ یہ صوبہ جغرافیائی، معاشی اور تزویراتی لحاظ سے ملک کا سب سے اہم خطہ ہے۔ یہاں کا امن صرف صوبے تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان کی معیشت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور گوادر کے روشن مستقبل کا ضامن ہے۔

آپریشن شعبان کا ہدف: پائیدار امن اور خوشحالی

بلاشبہ، دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف گولی کی نہیں بلکہ ترقی اور روزگار کی بھی ہے۔ لیکن ترقی کا پہلا قدم امن کا قیام ہے۔ جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، ترقیاتی منصوبوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا ناممکن ہے۔ آپریشن شعبان اسی لیے شروع کیا گیا ہے تاکہ ترقی کے سفر میں حائل آخری رکاوٹ کو بھی دور کیا جا سکے۔

بلوچستان کے عوام اب اس حقیقت کو جان چکے ہیں کہ ان کا حقیقی ہمدرد ریاستِ پاکستان اور ان کے تحفظ کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے جوان ہیں۔ بیرونی فنڈنگ پر پلنے والے مٹھی بھر عناصر کبھی بلوچستان کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔

آخری بات

آپریشن شعبان اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اپنی بقا اور خود مختاری کی جنگ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تیار ہے۔ سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ یہ آپریشن اس وقت تک بلا تعطل جاری رہنا چاہیے جب تک بلوچستان کا ہر شہری خود کو محفوظ محسوس نہ کرے اور ملک دشمن قوتوں کے آلہ کاروں کا نام و نشان مٹ نہ جائے۔ بلوچستان میں ابھرتا ہوا سورج امن، سلامتی اور بے پناہ خوشحالی کا سورج ہوگا، اور ریاست دشمن عناصر تاریخ کے کچرا دان کا حصہ بنیں گے۔

Trending