
پاکستان کے 1,800 سے زائد جید علماء و مشائخ کی متفقہ قومی دستاویز “پیغامِ پاکستان“ دہشت گردی، تکفیر، خودکش حملوں اور ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کے خلاف ایک واضح مذہبی موقف پیش کرتی ہے۔ اس بیانیے کی روشنی میں فتنہ الخوارج کی جانب سے تشدد اور خونریزی کو ’’جہاد‘‘ قرار دینے کی کوشش اسلامی تعلیمات کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔
1. مسلح تشدد جہاد نہیں، فساد اور حرابہ ہے
قرآنِ مجید کی سورۃ المائدہ کی آیت 33 میں زمین میں فساد پھیلانے اور معاشرے کے امن کو تباہ کرنے والوں کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے۔ بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ، اغوا، بھتہ خوری اور عام شہریوں کو خوفزدہ کرنا فساد اور حرابہ) “کسی بھی فرد یا مسلح گروہ کا قانون کو ہاتھ میں لے کر ریاست، معاشرے یا عام شہریوں کے خلاف مسلح بغاوت، قتل و غارت، بم دھماکے، ڈکیتی، اور خوف و ہراس پھیلانا“ ہے( کے زمرے میں آتا ہے۔
- نامور علماء و فقہاء کی آراء:
- علامہ ابنِ عابدین الشامی (الدر المختار): ریاست اور عام شہریوں کے امن پر حملہ کرنے والے بغات اور قطاع الطرق (ڈاکو و دہشت گرد) محارب ہیں، جن کے خلاف ریاست کو مکمل عسکری کارروائی کا حق حاصل ہے۔
- شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب (جامعہ الازہر): “تکفیری اور مسلح گروہوں کا تشدد کسی صورت جہاد نہیں بلکہ سچی اسلامی ریاست کے خلاف سرکشی اور قطاع الطريق ہے، جس کی سزا اسلام میں شدید ترین ہے۔”
2. ریاستی نظم اور قانون کی پابندی (اطاعتِ اولی الامر)
سورۃ النساء کی آیت 59 کے تحت مسلمانوں کو اللہ، رسول ﷺ اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم ہے. اختلافات کے حل کے لیے سیاسی و قانونی راستے موجود ہوتے ہیں؛ مسلح کارروائی ریاست کو عدم استحکام کی طرف دھکیلتی ہے۔
- اسلامی مراجع اور فتاویٰ:
- امام ابن تیمیہ (مجموع الفتاویٰ): “ریاستی نظم و ضبط کے خلاف مسلح خروج (بغاوت) دینی و دنیوی فساد کا موجب بنتا ہے، اور الخوارج کی سب سے بڑی گمراہی قانون کو ہاتھ میں لینا اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا ہے۔”
- مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ آل الشيخ: “مسلم حکومتوں کے خلاف بغاوت اور سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانا شریعتِ اسلامیہ کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس سے صرف اسلام کے دشمنوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔”
3. بغاوت اور مسلح سرکشی کا قرآنی تصور
سورۃ الحجرات کی آیت 9 واضح کرتی ہے کہ اگر کوئی گروہ سرکشی اور تشدد کا راستہ اختیار کرے تو قانون اور نظم کے قیام کے لیے اس کا سدِ باب کیا جائے۔
- معروف فقہی و شرعی حوالہ جات:
- امام نووی (شرح صحیح مسلم): “اجماعِ امت ہے کہ جو گروہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے اور مسلمانوں کا خون حلال سمجھے، اس کے شر کو روکنے کے لیے اس کے خلاف ریاستی کارروائی عین شرعی تقاضا ہے۔”
- مفتی محمد تقی عثمانی (فتاویٰ عثمانی): “پاکستان ایک آئینی اسلامی ریاست ہے۔ اس کی فوج اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف ہتھیار اٹھانا شرعاً ‘خروج’ ہے اور اس میں شامل افراد الخوارج کے حکم میں آتے ہیں۔”
4. خودکش حملے اور قتلِ ناحق: دو سنگین جرائم
سورۃ البقرہ (آیت 195) خود کو ہلاکت میں ڈالنے سے روکتی ہے، جبکہ سورۃ المائدہ (آیت 32) ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتی ہے۔ مساجد، اسکولوں، پولیو ورکرز، اساتذہ اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
- بین الاقوامی شرعی فیصلے:
- مجمع الفقه الإسلامي الدولي (جدہ – OIC): “خودکش دھماکے انتحار (خودکشی) اور قتلِ ناحق کا مجموعہ ہیں، جنہیں کسی بھی تاویل، نظریاتی مقصد یا ‘شہادت’ کے نام پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔”
- شیخ محمد الطاہر ابن عاشور (التحریر والتنویر): “اسلامی شریعت میں مقصد چاہے کتنا ہی عالی شان کیوں نہ ہو، حرام ذرائع (جیسے بے گناہوں کا قتل) کو کبھی جائز نہیں بناتا۔”
5. تکفیر کی سیاست اور خوارج کی فکر
سورۃ الانعام اور سورۃ الروم کی تعلیمات امت میں تفرقہ ڈالنے کی نفی کرتی ہیں۔ محض اختلاف پر کسی مسلمان کو کافر قرار دینا الخوارج کا قدیم فتنہ ہے۔
- عالمی علماء و علمی مجلات:
- مجلۃ مجمع البحوث الإسلامية (القاہرہ): “کسی کلمہ گو مسلمان کی تکفیر کرنا اور اس کی بنیاد پر اس کے خون کو مباح سمجھنا تاریخِ اسلام کے بدترین فتنے ‘الخوارج’ کی علامت ہے۔”
- پروفیسر ڈاکٹر علی جمعہ (سابق مفتی اعظم مصر): “تکفیری گروہ اسلام کے چہرے کو مسخ کر رہے ہیں۔ کلمہ گو مسلمانوں کو کافر قرار دینا رسول اللہ ﷺ کی واضح احادیث کی نفی ہے۔”
نتیجہ “پیغامِ پاکستان” نے یہ واضح کر دیا ہے کہ تکفیری سوچ، خودکش حملے، قتلِ ناحق اور ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کو اسلام کے نام پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قرآن و سنت کی صحیح تعبیر، مستند عالمی و قومی علماء کی رہنمائی اور آئین و قانون کی بالادستی ہی اس فتنے کا حتمی فکری و عملی علاج ہے



