پاک افغان سرحد پر کشیدگی: طالبان کے ڈرون حملوں، عسکری قیادت کی سخت ترین وارننگ

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: طالبان کے ڈرون حملوں، عسکری قیادت کی سخت ترین وارننگ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر انتہائی نازک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ روز افغان سرزمین سے مبینہ طور پر داغے گئے دو ڈرون طیارے پاکستان کے سرحدی صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں گر کر تباہ ہو گئے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت آٹھ شہری شدید زخمی ہو گئے۔ اس سنگین خلاف ورزی پر پاکستانی فوج کی جانب سے انتہائی سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں افغان طالبان حکومت کو خبردار کیا گیا ہے کہ ایسی اشتعال انگیزیوں کا “فیصلہ کن” جواب دیا جائے گا۔

سرحدی اضلاع میں شہری آبادی نشانہ

ابتدائی سرکاری اطلاعات کے مطابق، پہلا ڈرون طیارہ بلوچستان کے ضلع پشین میں واقع ایک افغان پناہ گزین کیمپ کے اندر گرا، جس کے دھماکے کی زد میں آکر تین افغان مہاجرین زخمی ہو گئے۔

اس واقعے کے کچھ ہی دیر بعد، دوسرا ڈرون خیبر پختونخوا کے علاقے حسن خیل کے مقام “شمات خیل پستانی” میں گر کر تباہ ہوا۔ اس دوسرے حملے میں تین خواتین اور دو بچے زخمی ہوئے۔ ریسکیو اداروں نے تمام آٹھ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ڈرونز کا مقصد دہشت گردوں کی معاونت تھا: آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اس فضائی مداخلت کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔ عسکری حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرونز محض جاسوسی کے لیے نہیں تھے، بلکہ انہیں سرحدی علاقوں میں روپوش دہشت گردوں کو “سہولت اور فضائی معاونت” فراہم کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

“پاکستان کے فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس نیٹ ورک) نے ان ڈرونز کو ملکی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی فوری طور پر ٹریس کر لیا تھا، جس کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کو بروقت کارروائی کا موقع ملا۔” آئی ایس پی آر

عسکری قیادت نے مزید الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکومت بیرونی جارحیت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ بیان کے مطابق، ان سرحدی مہم جوئیوں کا مقصد افغان عوام کی توجہ ان کے داخلی اور گھریلو مسائل سے ہٹانا اور پاکستان کو کسی بڑے فوجی تصادم کے لیے اکسانا ہے۔

پاکستانی بیانیہ اور ماہرینِ دفاع کے تجزیات

اس سنگین نوعیت کی سرحدی خلاف ورزی پر پاکستان کے معتبر اخبارات اور سیکیورٹی ماہرین نے کابل کے جارحانہ رویے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کابل کو اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے نہ کہ پاکستان کو نشانہ بنانا چاہیے۔

  • روزنامہ ڈان (Dawn) کا ادارتی مؤقف:

“کابل حکومت کی جانب سے روایتی اور تجارتی ڈرونز کو موڈیفائی (ترمیم) کر کے پاکستان کے خلاف استعمال کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی ناکامیاں چھپانا چاہتی ہے۔ افغانستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اور خطے میں امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب کابل اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کرے۔”

  • لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود (سیکیورٹی امور کے ماہر):

“افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی حدود میں داعش یا دیگر گروہوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سراسر مضحکہ خیز اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے اور کالعدم ٹی ٹی پی (TTP) کو افغان سرزمین پر جو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے، کابل اس سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لیے یہ ڈرامے رچا رہا ہے۔ پاکستان کا ایئر ڈیفنس الرٹ ہے اور اس قسم کی مہم جوئی کابل کو بہت مہنگی پڑے گی۔”

  • دی نیوز (The News) کی رپورٹ کے مطابق عسکری ذرائع کا تجزیہ:

“کراچی میں رینجرز پر ہونے والے حالیہ حملے میں افغان شہریوں کا پکڑا جانا اور اب یہ ڈرون حملے، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عبوری افغان حکومت دانستہ طور پر پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ برادرانہ تعلقات کو ترجیح دی لیکن کابل کا موجودہ رویہ سیکیورٹی اداروں کو سخت ترین فیصلے کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔”

پاکستان کی منہ توڑ جواب دینے کی دھمکی

ایک غیر معمولی اور سخت ترین انتباہ میں آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ ملکی سرحدوں کی خلاف ورزی پر پاکستان کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔ عسکری قیادت نے کابل کی عبوری حکومت کو خبردار کیا کہ اگر پاکستان کے خلاف ان اشتعال انگیز اقدامات کو فوری طور پر نہ روکا گیا، تو انہیں اس کی “بھاری قیمت چکانی پڑے گی”۔ پاک فوج نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مسلح افواج وطنِ عزیز کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ڈرون واقعات کے چیدہ چیدہ نکات:

  • مقامِ حادثہ (پشین، بلوچستان): افغان مہاجرین کے کیمپ پر ڈرون گرا؛ 3 پناہ گزین زخمی۔
  • مقامِ حادثہ (حسن خیل، خیبر پختونخوا): رہائشی علاقے میں ڈرون گرنے سے 5 شہری (3 خواتین، 2 بچے) زخمی۔
  • ایئر ڈیفنس الرٹ: پاکستانی فضائی حدود کی نگرانی سخت، مغربی سرحدوں پر ہائی الرٹ نافذ۔

بڑھتے ہوئے سفارتی مابعد اثرات

فضائی حدود کی یہ حالیہ خلاف ورزی دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تیزی سے گرتے ہوئے سفارتی تعلقات کا تسلسل ہے۔ ابھی چند روز قبل ہی، کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر ہونے والے ایک مہلک دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) تھمایا تھا۔

اس حملے میں رینجرز کے تین اہلکار شہید ہوئے تھے۔ پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے تصدیق کی تھی کہ حملے میں افغان شہری ملوث تھے، اور موقع سے ایک دہشت گرد کو زندہ بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اپناتا آیا ہے کہ افغان طالبان اپنے بین الاقوامی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور افغان سر زمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ حالیہ ڈرون حملوں نے اس سرحدی تنازع کو ایک نئی اور خطرناک نہج پر پہنچا دیا ہے۔

Trending