پاکستان اور ایران کا کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کے ذریعے تجارت بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اور ایران نے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کے ذریعے تجارتی اور معاشی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں فریقین نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ پاک-ایران آزادانہ تجارت کے معاہدے (FTA) پر مذاکرات بہترین انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور جلد ہی کامیابی سے مکمل ہو جائیں گے۔

اس بات کا اظہار ایران کے وزیر برائے صنعت، کانکنی و تجارت محمد اتابک نے اسلام آباد میں پاک-ایران جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی کے دسویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے وزیرِ تجارت جام کمال خان نے بھی کی۔

پریس ریلیز کے مطابق، ایرانی وزیر نے کہا کہ ایران تمام شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے خاص طور پر برادر ملک پاکستان کو سب سے اعلیٰ ترجیح دیتا ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کہا کہ سرحد پر قائم مشترکہ بازاروں (بارڈر مارکیٹس) کو متحرک کرنا مقامی لوگوں کے روزگار کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ پاکستان اور ایران کی نجی شعبے (پرائیویٹ سیکٹر) ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں اور تجارت کے لیے تیار ہیں، لہٰذا دونوں حکومتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں ایک ہموار، منظم اور قابلِ اعتماد ماحول فراہم کریں۔

انہوں نے پاکستان اور ایران کے درمیان معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے مستقبل کے روڈ میپ کو حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال پاکستان نے آزادانہ تجارت کے معاہدے (FTA) کو حتمی شکل دے کر ایران کے ساتھ معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا تھا اور 2028ء تک دوطرفہ تجارت کا ہدف 10 ارب ڈالر مقرر کیا تھا۔

Trending